منگلورو، 3 ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران منگلورو کے 61 سالہ ڈونالڈ جوزف ریگو کو غلطی سے مردہ قرار دے کر ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے ان کا نام خارج کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ جنوبی کینرا ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات کے بعد اس غلطی کی ذمہ داری بوتھ لیول آفیسر (BLO) پر عائد کی ہے اور ریگو کا نام حتمی ووٹر لسٹ میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔
بیجائی کے رہنے والے ریگو کا نام منگلورو سٹی ساؤتھ اسمبلی حلقہ کے ووٹر ریکارڈ میں درج تھا۔ 24 اگست کو جاری ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں نام غائب ہونے کے بعد انہوں نے تفصیلات کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ انہیں Absent, Shifted, Duplicate, Dead and Others (ASDDO) فہرست میں ’مردہ‘ قرار دیا گیا ہے۔
ریگو کے مطابق انہوں نے SIR کے دوران اپنا Enumeration Form بی ایل او (یعنی بوتھ لیول آفسر) کے حوالے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کو مردہ قرار دینے کے لیے موت کا سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے، پھر انہیں کس بنیاد پر مردہ قرار دیا گیا، یہ ان کی سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے نام کی بحالی کے لیے BLO اور اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (AERO) کے دفتر کے کئی چکر لگائے اور الیکشن کمیشن میں آن لائن شکایت بھی درج کرائی۔
بعد میں جنوبی کینرا ضلعی انتظامیہ کی وضاحت میں اصل معاملہ سامنے آیا۔ انتظامیہ کے مطابق ریگو نے اپنے Enumeration Form کے ساتھ اپنے مرحوم والد کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ منسلک کیا تھا۔ فارم میں 2002 کی ووٹر لسٹ سے میپنگ اور والدین سے متعلق بعض تفصیلات درج نہ ہونے کے باعث اسے ’No Mapping Case‘ کے طور پر لیا گیا۔ فارم کو ڈیجیٹل ریکارڈ میں منتقل کرتے وقت BLO نے والد کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کو غلطی سے ریگو کا سرٹیفکیٹ سمجھ لیا اور انہیں ’مردہ‘ درج کردیا۔
ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر نے BLO سے وضاحت طلب کی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر نے بھی افسر کو وضاحت پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ریگو کا نام منگلورو سٹی ساؤتھ حلقہ کے متعلقہ پولنگ پارٹ کی حتمی ووٹر لسٹ میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے ضروری کارروائی جاری ہے۔
تاہم ریگو نے انتظامیہ کے اس دعوے پر بھی اعتراض کیا ہے کہ افسران نے خود ان سے رابطہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود 28 اگست کو متعلقہ دفتر پہنچے تھے، جبکہ انتظامیہ کے مطابق 29 اگست کو BLO اور ERO نے ان سے رابطہ کرکے ضروری دستاویزات حاصل کیے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرناٹک میں SIR کے دوران لاکھوں ووٹرز کے نام Absent، Shifted، Dead، Duplicate اور Others زمروں میں شامل کیے گئے ہیں۔ اگست میں جاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 84 لاکھ سے زیادہ ووٹرز کو ASDDO زمرے میں رکھا گیا تھا، جس کے بعد غلط طور پر نشان زد کیے گئے ووٹرز کی جانب سے شکایات بھی سامنے آئی تھیں۔