بنگلورو ، 3/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ایس آئی آر کے طریقہ کار پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اس کی منسوخی کیلئے منگل کو بنگلور میں زوردار احتجاج کیاگیا۔ اس احتجاج میں کنڑ تیلگو اور ملیالم فلموں کے اداکارکشور اور معروف اداکار پرکاش راج بھی شریک تھے۔ سی پی آئی، ڈی ایس ایس اور کئی دیگر تنظیموں کے ارکان نے فریڈم پارک میں’’ ایڈڈیلو کرناٹک ‘‘ کے بینر تلے احتجاج میں شرکت کی۔
کارکنوں نے ’’چلو الیکشن کمیشن‘‘ کے نعرہ کے ساتھ فریڈم پارک سے کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر تک مارچ کی کوشش کی مگر انہیں راستے میں ہی حراست میں لے لیا گیا۔
’’ ایڈڈیلو کرناٹک‘‘ کی تارا راؤ نے بتایا کہ کارکنان کا مطالبہ تھا کہ چیف الیکٹورل آفیسر احتجاجی مقام پر آکر ان کے سوالات کا جواب دیں، لیکن وہ نہیں آئے، جس کے بعد انہوں نے خود سی ای او کرناٹک کے دفتر کی طرف مارچ کیا۔
سماجی کارکن کے ایل اشوک نےبتایا کہ ’’ہمارے چار مطالبات ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ انتخابی حکام ان کا جواب دیں اور ان پر کارروائی کریں۔ہم چاہتے ہیں کہ ایس آئی آرکو منسوخ کیا جائے۔ حکام کو ضروری تمام انتظامات کرنے چاہئیں تاکہ غیر حاضر، منتقل ہو جانے والے، فوت شدہ، ڈپلیکیٹ اور دیگر زمروں میں درج ۱ء۰۷؍کروڑ افراد کے نام دوبارہ ووٹر فہرست میں شامل کئے جائیں۔ اس کے علاوہ منطقی تضاد کے زمرہ میں درج۴۳؍لاکھ افراد کے معاملے کو بھی حل کیا جائے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو اپنا گھر تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایسے افراد کے نام ووٹر فہرست سے حذف نہ کیے جائیں۔
پرکاش راج نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’ایس آئی آر کو منسوخ کرنا پڑےگا، جب تک یہ منسوخ نہیں ہوگا کرناٹ چین سے نہیں بیٹھےگا۔ ہم کورٹ میں جائیں گے، ملک کے ایک ایک شہری کے حق کی لڑائی لڑیں گے۔‘‘
انہوں نے الیکشن کمیشن کی من مانی کے ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی سوال کیا۔
ا نہوں نے کہا کہ ’’ایس آئی آر کروانےوالے الیکشن کمشنر کی تقرری ہی غیر جمہوری طریقہ سے ہوئی ہے۔‘‘