بنگلورو ، 3/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف اتراکھنڈ پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے کے خلاف کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے بدھ کے روز بنگلورو کے فریڈم پارک میں احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، سابق مرکزی وزیر بی کے ہری پرساد سمیت کانگریس کے متعدد قائدین اور کارکنوں نے شرکت کی۔ مقررین نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کرنا سیاسی انتقام کی کارروائی ہے اور اس کے ذریعے حزب اختلاف کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قائدین نے کہا کہ راہل گاندھی نے صرف اس واقعہ پر سوال اٹھایا تھا جس میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی تقریر کے مقام کو مبینہ طور پر پاک کیا گیا تھا۔
سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ راہل گاندھی نے کوئی غلطی نہیں کی، اس کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکارجن کھرگے کی تقریر کے مقام کی مبینہ صفائی کا واقعہ آئین کی روح کے خلاف ہے، کیونکہ آئین میں چھوت چھات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ملکارجن کھرگے کی توہین تک محدود نہیں بلکہ مقدمہ درج کرکے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق، راہل گاندھی نے محض اس کارروائی پر سوال اٹھایا تھا، جس کے جواب میں ان کے خلاف دلتوں پر مظالم سے متعلق قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت راہل گاندھی کی آواز خاموش کرنے کے لیے سیاسی دباؤ کا استعمال کررہی ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ ماضی میں بھی پارلیمنٹ میں حکومت پر تنقید کرنے کے بعد راہل گاندھی کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور ان کی رکنیت منسوخ کی گئی، لیکن بعد میں عدالت سے انہیں راحت ملی۔
سدارامیا نے کہا کہ راہل گاندھی آئین کے تحفظ اور چھوت چھات کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں، جبکہ بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ آئینی اقدار کے برخلاف طرز عمل اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کے خلاف درج مقدمہ واپس لیا جائے اور اس معاملے کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ راہل گاندھی پیدائشی طور پر جدوجہد کرنے والے رہنما ہیں اور ان کے خلاف چاہے 100 مقدمات بھی درج کر دیے جائیں، وہ خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی دوسروں کی طرح معافی مانگنے یا کسی ضمانتی تحریر پر دستخط کرنے والے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکنوں کا احتجاج صرف راہل گاندھی کی حمایت میں نہیں بلکہ جمہوریت، اظہارِ رائے کی آزادی اور آئین کے تحفظ کے لیے ہے۔ ان کے مطابق، ملک کو آزادی دلانے اور جمہوری و آئینی بنیادیں مضبوط کرنے میں کانگریس کا تاریخی کردار رہا ہے۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی نے ملک اور جمہوری اقدار کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کسی بھی دباؤ سے پیچھے ہٹنے والی نہیں اور پارٹی اپنے قائدین کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ مختلف معاملات میں عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے سماج کے تمام طبقات کو متحد کرنے کے مقصد سے بھارت جوڑو یاترا نکالی تھی اور ملک میں ذات، مذہب اور طبقے کی بنیاد پر تقسیم کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ماضی میں میکے داٹو منصوبے کی حمایت میں نکالی گئی کانگریس کی پیدل یاترا کے دوران بھی مقدمات درج کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کے خلاف موجودہ مقدمے کے معاملے میں بھی حکومت کو قانونی اور سیاسی سطح پر جواب ملے گا۔
انہوں نے بی جے پی کی جانب سے ریاست میں نکالی جارہی مبینہ ’’پریاشچت یاترا‘‘ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی اس کا مناسب جواب دے گی۔ ان کے بقول، ریاست میں بی جے پی کی جانب سے کیے گئے مبینہ ناانصافیوں کو چھپانے کے لیے یہ مہم چلائی جارہی ہے۔
اس موقع پر کے بی سی سی صدر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی راہل گاندھی کی آواز دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔
ہری پرساد نے کہا کہ ملکارجن کھرگے طویل سیاسی تجربہ رکھنے والے دلت رہنما ہیں اور ان کی تقریر کے مقام کو مبینہ طور پر پاک کیا جانا انتہائی قابل اعتراض عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے خلاف ریاست کے تمام اضلاع میں احتجاج ہونا چاہیے۔
انہوں نے آئین کے ذریعے دلتوں اور محروم طبقات کو حاصل حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین نے ملک کے شہریوں کو مساوات، عزت اور بنیادی حقوق فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق، ان حقوق کے تحفظ کے لیے کانگریس کارکنوں کو متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی۔
ہری پرساد نے کہا کہ کانگریس کی بنیادی فکر ہی امتیاز کے خلاف جدوجہد ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کی جنوبی افریقہ میں نسل پرستی اور چھوت چھات کے خلاف جدوجہد اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی جانب سے آئین کی تشکیل میں ادا کیے گئے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سماجی مساوات آئینی نظام کی بنیادی روح ہے۔
احتجاج کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ یہ برطانوی دور حکومت نہیں ہے بلکہ ایک جمہوری ملک ہے جہاں اظہارِ رائے کی آزادی آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی کے ساتھ ہزاروں کانگریس قائدین کھڑے ہیں اور اس معاملے کا متحد ہوکر مقابلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملکارجن کھرگے کی تقریر کے مقام کو مبینہ طور پر پاک کرنا ملک کے سماجی اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے توہین آمیز عمل ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کے لیے بی جے پی کو صرف ملکارجن کھرگے ہی نہیں بلکہ پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔