ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں خشک سالی سے متاثرہ تعلقہ جات کی دوسری فہرست جلد جاری ہوگی: ڈی کے شیوکمار

کرناٹک میں خشک سالی سے متاثرہ تعلقہ جات کی دوسری فہرست جلد جاری ہوگی: ڈی کے شیوکمار

Wed, 02 Sep 2026 12:10:26    S O News

بنگلورو ، 2/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ریاست میں خشک سالی سے متاثرہ تعلقہ جات کی دوسری فہرست کا اعلان جلد کیا جائے گا اور اس سلسلے میں حکومت مقررہ رہنما اصولوں کے مطابق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

گدگ ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں منگل کو ضلع سطح کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ خشک سالی کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا کہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا اعلان مقررہ رہنما اصولوں کے مطابق ہی کیا جانا چاہیے۔ اسی بنیاد پر تفصیلی مطالعہ اور جائزہ مکمل کرکے دوسری فہرست جلد جاری کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ضلع کے انچارج وزیر نے ہر تعلقہ کا دورہ کرکے زمینی صورتحال پر مبنی رپورٹ پیش کی ہے، جبکہ عہدیدار بھی اپنے طور پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ دونوں رپورٹوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مرکز کو جامع رپورٹ پیش کی جائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کسانوں کی زندگی شدید مشکلات سے دوچار ہے اور ضلع کے عوام میں تشویش پائی جارہی ہے۔ گزشتہ 50 برسوں میں ضلع کو ایسی شدید خشک سالی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ رواں سال بارش میں تقریباً 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر سے گدگ پہنچتے ہوئے انہوں نے کئی علاقوں میں دیکھا کہ ابھی تک فصلوں کی بوائی بھی نہیں ہوسکی ہے۔ جہاں بوائی ہوئی ہے، وہاں بھی پیداوار کا صرف 10 سے 15 فیصد حصہ کسانوں کے ہاتھ آنے کا خدشہ ہے۔

ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا کہ انہوں نے کسانوں کے کھیتوں کا دورہ کرکے کپاس، مونگ پھلی، جوار اور سورج مکھی کی فصلوں کا معائنہ کیا ہے۔ اس دوران انہیں کسانوں کو درپیش مشکلات کا براہِ راست اندازہ ہوا۔ کسانوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے مسائل اور پریشانیوں سے آگاہ کیا۔ کسانوں نے یہ بھی بتایا کہ لوگوں کی نقل مکانی روکنے کے لیے روزگار فراہم کرنے والی سرکاری اسکیم کو مؤثر انداز میں کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فی الحال ضلع میں صرف گجندرگڑھ کو خشک سالی سے متاثرہ تعلقہ قرار دیا گیا ہے، تاہم ضلع کے انچارج وزیر کی قیادت میں تمام ارکانِ اسمبلی اور ضلع کے تمام تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے کی درخواست حکومت کو پیش کی گئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ رکن اسمبلی ایچ۔ کے۔ پاٹل نے مصنوعی بارش کے لیے بادلوں پر بیج بکھیرنے کے منصوبے کے بارے میں اپنی رائے پیش کی ہے، جبکہ دیگر ارکانِ اسمبلی نے بھی مختلف مسائل حکومت کے سامنے رکھے ہیں۔ آبپاشی، بینن ہلّہ سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔ ریاست کی مالی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان منصوبوں کے بارے میں مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا کہ ریاست کی جانب سے تیار کی جانے والی رپورٹ کا مرکزی حکومت کی رپورٹ سے مطابقت رکھنا ضروری ہے۔ دہلی سے آنے والی خشک سالی کا جائزہ لینے والی مرکزی ٹیم کے سامنے ریاست کی رپورٹ حقائق پر مبنی اور قابلِ قبول ہونی چاہیے، کیونکہ اسی بنیاد پر مرکزی حکومت سے مالی امداد حاصل ہوسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اپنی جانب سے ممکنہ اقدامات کیے ہیں۔ پینے کے پانی کی فراہمی کے بارے میں عہدیداروں کو ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔ ہر دیہی اسمبلی حلقے میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے 1 کروڑ روپے کا فنڈ فراہم کیا گیا ہے، جبکہ ضلع ڈپٹی کمشنروں کے کھاتوں میں اضافی رقم بھی رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں انتظامی نظام کو مزید فعال بنانے اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دفاتر کے چکر لگانے سے بچانے کے مقصد سے 5 ستمبر سے عوامی خدمت مہم شروع کی جارہی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی ضمانتی اسکیموں کا فائدہ صرف اہل مستحقین تک درست طریقے سے پہنچنا چاہیے اور ان کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اسی مقصد سے اسکیموں کا دوبارہ جائزہ لینے کے ساتھ پنچایت سطح پر ضمانتی اسکیموں کی نگرانی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے 100 دنوں کے دوران کیے گئے اقدامات اور مستقبل کے پروگراموں سے متعلق تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم اپوزیشن نے اس کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ 100 روزہ پروگرام کے دوران حکومت کی کارکردگی اور آئندہ کے اقدامات سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔


Share: