ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / چلتی بس میں 16 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی، دہلی میں طالبات کا احتجاج اور کینڈل مارچ

چلتی بس میں 16 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی، دہلی میں طالبات کا احتجاج اور کینڈل مارچ

Thu, 03 Sep 2026 12:05:28    S O News

نئی دہلی ، 3/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی یونیورسٹی کی کئی طالبات نے گریٹر نوئیڈا میں۱۱؍ ویں جماعت کی طالبہ ۱۶؍سالہ لڑکی کی اجتماعی آبروریزی  معاملہ پر احتجاجی مارچ نکالا ۔ یہ مارچ نصف شب کو نکالا گیا جس میں عوامی مقامات کو خواتین کیلئے  زیادہ محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری طرف  جنتر منتر پر جین زی  کے احتجاج  کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجانےوالی مودی سرکار موجودہ واردات کی وجہ سے نوجوانوں میں پھیل رہے غصہ کے تعلق سے الرٹ ہوگئی ہے۔ دہلی پولیس کو جانچ میں تیزی کا حکم دیاگیا ہے جس نے بدھ کو بتایا کہ آبروریزی کے دوران طالبہ نے بھاگ جانے کی کوشش کی تھی مگر درندوں نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا۔  پولیس نے فورنسک محکمہ کو خط لکھ کر بس سے لئے گئے نمونوں کی  رپورٹ جلد دینےکی اپیل کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں۱۶؍ سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کا گھناؤنا عمل اس بس میں انجام دیا گیا تھا، جس میں وہ سوار تھی۔  یہ بس ۴۵؍ منٹ تک چلتی ہے اور طالبہ کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی۔ایئر کنڈیشنڈ بس کی کھڑکیوں  کے شیشوں موٹا پردہ لگا ہواتھا جس کی وجہ سے باہر سے کچھ نظر نہیں آرہاتھا۔  اس سانحہ کے بعد ایک بار پھر دہلی میں خواتین اور لڑکیوں کی سیکوریٹی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

منگل کی دیر رات طلبہ تنظیم ’اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا‘ (ایس ایف آئی) کی جانب سے ’ری کلیم دی نائٹ‘ مہم کے تحت منعقد  کئے  گئے اس مارچ کے دوران دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈی یو ایس یو) انتخابات کے پیش نظر تنظیم کے ’طالبات منشور‘ کو بھی جاری کیا گیا۔ منشور میں خواتین کی حفاظت، نمائندگی اور صنفی انصاف کو اپنے مطالبات میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

مظاہرین نے مارچ کے دوران کہا کہ خواتین کی حفاظت ان کی آزادی کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔انہوں  نے ان پابندیوں کی مخالفت کی جن کے تحت طالبات کو اندھیرا ہونے کے بعد گھروں کے اندر رہنے کو کہا جاتا ہے۔ طالبات نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور ریاست کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ خواتین  بغیر کسی خوف کے تعلیم حاصل کر سکیں، سفر کر سکیں اور عوامی مقامات سے گزر سکیں۔


Share: