بنگلورو ، 31/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک حکومت کے محکمہ بہبودیوخواتین و اطفال کی جانب سے 2000-01 میں شروع کی گئی ’استری شکتی‘ اسکیم کا مقصد بالخصوص دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا، مالی شمولیت کو فروغ دینا اور انہیں خود کفیل بنانے کے لیے اجتماعی طور پر روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ پروگرام خواتین کے خود امدادی گروپوں کے ذریعے بچت، اندرونی قرض اور چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔
اس اسکیم کے تحت عموماً 10 سے 20 خواتین پر مشتمل خود امدادی گروپ تشکیل دیے جاتے ہیں۔ ان گروپوں میں معاشی طور پر کمزور طبقات، پسماندہ خاندانوں اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی خواتین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مقامی سطح پر آنگن واڑی کارکنان بھی خواتین کو گروپوں سے جوڑنے اور تنظیم سازی میں معاونت کرتے ہیں۔
گروپ کی خواتین باقاعدگی سے، عموماً ہفتہ وار یا ماہانہ بنیاد پر، معمولی رقم کی بچت کرتی ہیں۔ ہر رکن اپنی استطاعت کے مطابق تقریباً 10 سے 500 روپے تک جمع کرسکتی ہے۔ اس طرح گروپ کا مشترکہ بچت فنڈ تشکیل پاتا ہے، جس سے ضرورت مند اراکین کو اندرونی طور پر چھوٹے قرض فراہم کیے جاتے ہیں۔
مستحکم اور فعال گروپوں کو بینکوں سے جوڑنے کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ ایسے گروپ مشترکہ بینک کھاتے کھول کر ادارہ جاتی قرض، گھومتا ہوا سرمایہ اور مختلف سرکاری مالی معاونت حاصل کرسکتے ہیں، جس کے ذریعے خواتین اپنے چھوٹے کاروبار یا آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو وسعت دے سکتی ہیں۔
استری شکتی کے تحت خواتین کو مختلف ہنرمندانہ اور روزگار پر مبنی سرگرمیوں کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ان میں سلائی، دودھ کی پیداوار، غذائی اشیا کی تیاری، دست کاری اور دیگر چھوٹے کاروبار شامل ہیں۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد خواتین کو صرف مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں بچت کی عادت، باہمی تعاون، قرض تک رسائی اور مستقل آمدنی کے ذرائع کے ذریعے معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے، تاکہ دیہی خواتین اپنے خاندان اور معاشرے میں زیادہ مؤثر اور خود مختار کردار ادا کرسکیں۔