بنگلورو ، 30/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی رام کرشنا ہیگڑے کی خدمات اور سیاسی ورثے کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کئی اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتر کنڑ اضلع کے کاروار میں زیر تعمیر میڈیکل کالج کو رام کرشنا ہیگڑے کے نام سے منسوب کیا جائے گا، جبکہ بنگلورو کے شیورام کارنت لے آؤٹ کی ایک اہم سڑک بھی ان کے نام سے موسوم کی جائے گی۔
وہ ہفتہ کو ودھان سودھا کے بینکوئٹ ہال میں رام کرشنا ہیگڑے کی یوم پیدائش کی صد سالہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب کا افتتاح انہوں نے نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن کے ساتھ کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رام کرشنا ہیگڑے محض اقتدار سنبھالنے والے سیاست دان نہیں تھے بلکہ انہوں نے گرام پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک نئی قیادت تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق کسی قائد کی اصل کامیابی صرف پیروکار پیدا کرنا نہیں بلکہ نئے قائدین تیار کرنا ہے اور رام کرشنا ہیگڑے اسی نظریے پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں پنچایتی راج کے میدان میں کیے گئے ہیگڑے کے تجربات ملک کے لیے ایک مثال بنے۔ بعد ازاں راجیو گاندھی حکومت کے دور میں 73ویں اور 74ویں آئینی ترامیم کے ذریعے مقامی خود حکومتی اداروں کو مزید مضبوط بنانے میں بھی ان نظریات سے تحریک حاصل ہوئی۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ رام کرشنا ہیگڑے نے ذات پر مبنی سیاست تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اقدار پر مبنی سیاست اور سماجی انصاف کو ترجیح دی۔ ریاست کے مختلف علاقوں، بالخصوص شمالی کرناٹک کے عوام میں بھی ان کی قیادت کو وسیع قبولیت حاصل تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہیگڑے نے اقتدار کو طاقت کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا موقع سمجھا۔ ان کی پوری زندگی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے سیاسی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’رام کرشنا ہیگڑے کی زندگی ایک لغت کی مانند ہے‘‘ جس کے مطالعے سے سیاست دانوں اور عوامی نمائندوں کو ان کے طرز فکر، اصولوں اور عوامی خدمت کے تصور سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ دیہی انتظامیہ اور پنچایتی راج کے شعبے میں رام کرشنا ہیگڑے کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال ان کی یوم پیدائش کے موقع پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی گرام پنچایت کو ’’رام کرشنا ہیگڑے بہترین پنچایت ایوارڈ‘‘ دینے کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ہیگڑے کے پنچایتی راج کے تصور اور دیہی ترقی سے متعلق ان کے خیالات کو آئندہ نسلوں تک پہنچانا ہے۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ کرناٹک میں طبی اور انجینئرنگ تعلیم کے فروغ میں رام کرشنا ہیگڑے کے دور کی پالیسیوں کا اہم کردار رہا ہے۔ ان پالیسیوں نے ریاست میں نجی تعلیمی اداروں کے فروغ کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں کرناٹک آج طبی اور انجینئرنگ تعلیم کے میدان میں ملک کی نمایاں ریاستوں میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آج کرناٹک میں ہر سال تقریباً 13,940 ڈاکٹر اور 1.25 لاکھ سے زیادہ انجینئر تیار ہو رہے ہیں۔ تعلیم اور انسانی وسائل کو ریاست کا اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میدان میں ہونے والی پیش رفت میں ہیگڑے کے دور کی پالیسیوں کا بھی حصہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے رام کرشنا ہیگڑے کے دور اور موجودہ دور کے بجٹ کا تقابلی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1982 سے 1987 کے دوران ریاستی بجٹ تقریباً 3,687 کروڑ روپے تھا، جبکہ موجودہ دور میں یہ تقریباً 4.50 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاست کی آمدنی بھی موجودہ سطح کے مقابلے میں بہت کم تھی اور آج چھوٹے منصوبے بھی ہزاروں کروڑ روپے کی لاگت والے منصوبوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
ڈی کے شیوکمار نے اپنی سیاسی زندگی کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کنکاپور میں رام کرشنا ہیگڑے اور پی جی آر سندھیا کے سیاسی اثرات کے دوران انہوں نے سیاست میں قدم رکھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہیگڑے کے سیاسی اثر و رسوخ کے دور میں ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ ایک انتخاب میں شکست کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ شکست نہ ہوتی تو آج وہ نویں مرتبہ رکن اسمبلی ہوتے۔ انہوں نے کنکاپور کے عوام کی جانب سے مسلسل ملنے والی حمایت کو اپنی خوش نصیبی قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رام کرشنا ہیگڑے نے صرف اپنی جماعت کے لیے نہیں بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں میں کام کرنے والے کئی قائدین کی سیاسی تربیت اور رہنمائی کی۔
انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا، آر وی دیش پانڈے، بسواراج رائے ریڈی، بی ایل شنکر سمیت متعدد قائدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ہیگڑے کی سیاسی فکر اور تربیت سے متاثر ہونے والے قائدین میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہیگڑے نے پیروکار نہیں بلکہ قائدین تیار کیے اور یہاں موجود سینکڑوں قائدین اس بات کے گواہ ہیں۔‘‘
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ رام کرشنا ہیگڑے میں ملک کا وزیر اعظم بننے کی اہلیت بھی تھی اور اس کا موقع بھی موجود تھا، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر یہ ممکن نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وہ زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔
انہوں نے سوامی وویکانند کے اس پیغام کا حوالہ دیا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے دل کی فراخی اور کامیابی کے باوجود بڑے پن کا مظاہرہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی قیادت کو ہیگڑے کی زندگی سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت رام کرشنا ہیگڑے کے طرز عمل، اقدار پر مبنی سیاست، پنچایتی راج اور ترقیاتی فکر کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ رام کرشنا ہیگڑے کی خدمات، عوامی زندگی، قیادت اور ترقیاتی نظریات کو مستقل طور پر یاد رکھا جانا چاہیے۔ انسان کی پیدائش اتفاقی اور موت یقینی ہے، لیکن پیدائش اور موت کے درمیان انسان کیا خدمات انجام دیتا ہے، یہی اس کی اصل پہچان بنتی ہے۔ رام کرشنا ہیگڑے نے جو کام اور عوامی خدمت انجام دی، اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہی ان کے لیے حقیقی خراج عقیدت ہوگا۔