بھٹکل، 29 اگست (ایس او نیوز): ’’آج پوری دنیا میں مسلمان نشانے پر ہیں۔ چاہے مسلمان کسی بھی مشکل یا سمجھوتہ کرنے والی صورتِ حال میں ہوں، امریکہ ہو، یورپ ہو یا ہندوستان، ہر جگہ مسلمانوں کا ٹیسٹ لیا جارہا ہے۔ لیکن مسلمانوں اور پوری دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح اندھیرے کو صرف روشنی سے خوف ہوتا ہے اور روشنی میں اندھیرے کا کوئی وجود نہیں ہوتا، اسی طرح اس دنیا میں مسلمان بھی ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘ یہ بات آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور کولکتہ سے تعلق رکھنے والے مولانا ابو طالب رحمانی نے کہی۔ وہ ماہِ ربیع الاول میں حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے بھٹکل نوائط کالونی کی تنطیم ملیہ مسجد میں منعقدہ پروگرام ’’رسول ﷺ کی سیرت اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں‘‘ میں کلیدی خطاب کررہے تھے۔
مولانا ابو طالب رحمانی نے اپنے خطاب میں رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور آپ ﷺ کی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونۂ عمل اور مشعلِ راہ ہیں۔ آپ ﷺ نے نہ صرف انسانوں کو اچھے اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیم دی بلکہ معاشرے میں موجود برائیوں کے خلاف آواز اٹھانے اور ان کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کا بھی درس دیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں پائی جانے والی ہر برائی کے خلاف مسلمان ایک بڑی رکاوٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’’یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر طرف نشانہ بنایا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے کرناٹک کے منڈیا کی مسکان خان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب کرناٹک میں حجاب کا تنازعہ شروع ہوا اور اس باحجاب طالبہ نے جس دلیری کے ساتھ ببانگِ بلند ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگایا، وہ نعرہ صرف نعرہ نہیں تھا بلکہ اس لڑکی نے فیشن انڈسٹری کو تھوک دیا تھا۔ اگر مسلمانوں نے اپنی بیٹیوں کو پردہ دیا ہے اور انہیں حیا دی ہے تو دنیا حجاب کی دشمن بن گئی ہے، کیونکہ اس صورت میں ان کا کریم، ان کا بلیچنگ پاؤڈر، ان کا فیشن اور ان کی لپ اسٹک کون خریدے گا؟ ان کے میک اَپ پارلر اور ان کی فیشن انڈسٹری کیسے چلے گی؟ اگر مسلمانوں نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو حیا کی چادر اوڑھا دی تو ہوٹلوں اور شراب خانوں میں ننگا ناچنے اور ماڈلنگ کرنے والیوں کا کیا ہوگا، ان کے ننگے لباس کون خریدے گا؟ اس لیے مسلمانو! تم پوری دنیا میں چراغ کی حیثیت رکھتے ہو، یہ پوری آوارہ انڈسٹری تم سے گھبراتی ہے۔ تم وہ قوم ہو جو برائیوں کو روکتی ہے اور اچھائیوں کی دعوت دیتی ہے۔ تم ہی وہ قوم ہو جو شراب اور نشے کی کھل کر مخالفت کرتی ہے۔
ملک کی نوجوان آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا رحمانی نے کہا کہ پوری دنیا میں نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں نوجوانوں کی آبادی تقریباً 65 فیصد ہے اور یہی نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، لیکن نوجوان نسل کو نشے کی طرف دھکیلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو آواز دی کہ ان کے پاس ایک ایسی منظم ٹیم ہونی چاہیے جو نشے کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے مہم چلائے۔
انہوں نے ان لوگوں پر بھی حیرت کا اظہار کیا جو بظاہر نشے کے خلاف بات کرتے ہیں لیکن دوسری طرف نشہ آور اشیا کو فروغ دینے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’ہماری بندرگاہوں پر سفید پاؤڈر کہاں سے پہنچتا ہے اور کیسے آتا ہے؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے نوجوانوں کو نشے میں مبتلا کرکے اپنے مفادات حاصل کرنے والے عناصر کے خلاف معاشرے کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔
مولانا رحمانی نے ملک کو مضبوط بنانے کے لیے نوجوان نسل کو نشے سے پاک رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوں اور ملک کے نوجوانوں کو مضبوط بنانے کے لیے عوام میں نشہ مخالف مہم چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں کہ نشہ آور اشیا لوگوں، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں تک نہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے نشہ آور چاکلیٹ اور دیگر مصنوعات کے ذریعے نشے کے پھیلاؤ کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے اس کے سدباب کے لیے بیداری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ملک کو مضبوط بنانا بھی پیغمبرِ عالم ﷺ کے پیغام کا ایک اہم تقاضا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ہر برائی کو روکنے اور برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایسے میں اگر مسلمان خود انہی برائیوں کی طرف چلے جائیں اور معاشرے کی خرابیوں کا حصہ بن جائیں تو وہ اپنی ذمہ داری کیسے ادا کرسکتے ہیں؟
مسلمانوں کی اجتماعی قوت کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا رحمانی نے انہیں میگنیٹ سے تشبیہ دی۔ انہوں نے کہا کہ میگنیٹ کا کام اپنے حدود میں موجود لوہے کے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچنا اور اپنے سینے سے لگانا ہے، لیکن اگر میگنیٹ کمزور ہوجائے اور لوہا مضبوط ہوجائے تو صورت حال بدل جاتی ہے اور لوہا خود میگنیٹ کو اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو کمزور بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، لیکن مسلمانوں کو اپنی دینی، اخلاقی اور معاشرتی قوت کمزور نہیں ہونے دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے اچھے اخلاق اور حسنِ کردار کے ذریعے دوسروں کے دل جیتنے کی جو تعلیم دی ہے، مسلمانوں کو اس پر عملی طور پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ کہیں ہم حضورِ اقدس ﷺ کی تعلیمات سے بھٹک تو نہیں گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اصل طاقت صرف تعداد یا ظاہری قوت میں نہیں بلکہ ان کے کردار، اخلاق، حیا، انسانیت سے محبت اور معاشرے کی اصلاح کے لیے ان کی عملی جدوجہد میں ہے۔
پروگرام کی صدارت مجلسِ ملیہ نوائط کالونی کے صدر عتیق الرحمن منیری نے کی۔ قاضی جماعت المسلمین مولانا عبد الرب ندوی، مولانا ایس ایم عرفان ندوی، مولانا انصار خطیب مدنی، مولانا عبدالرّقیب ایم جے ندوی سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔