نئی دہلی، 29 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی-این سی آر میں سی این جی کی قیمتوں میں 3.89 روپے فی کلوگرام کا اضافہ کیا گیا ہے۔ تبدیل شدہ قیمتیں ہفتہ کی صبح 6 بجے سے نافذ ہو گئی ہیں۔ یہ اضافہ قومی راجدھانی کے علاقے میں گیس فراہم کرنے والی کمپنی اندراپرستھ گیس لمیٹڈ (آئی جی ایل) کی جانب سے کیا گیا ہے۔ سی این جی کی قیمت میں اس تازہ ترین اضافہ پر کانگریس کا سخت رعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مہنگائی مین مودی کا ہنٹر پھر چلا ہے، سی این جی 3.89 روپے مہنگی ہو گئی ہے۔‘‘
کانگریس اپنی ’ایکس‘ پوسٹ پر بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مزید لکھتی ہے کہ ’’گزشتہ 6 سال میں سی این جی کی قیمت میں تقریباً 99 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، مطلب قیمت دوگنی ہو گئی ہے۔ اگست 2020 میں سی این جی کی قیمت 43.80 روپے تھی اور اگست 2026 میں 86.98 روپے ہو گئی ہے۔‘‘ پارٹی نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’مہنگائی مین مودی نے گزشتہ 6 سال میں سی این جی تقریباً 43 روپے مہنگی کر دی اور اب بھی قہر جاری ہے...‘‘
ایک آٹو رکشہ ڈرائیور نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ کبھی چینی کی قیمت بڑھ جاتی ہے، کبھی سبزیوں کی تو کبھی پیاز کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا اثر امیر لوگوں پر نہیں پڑتا لیکن غریبوں پر پڑتا ہے۔ حکومت کو ایک بار سوچنا چاہیے۔ جس طرح مہنگائی بڑھ رہی ہے، وہ ملک کے لیے صحیح نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سی این جی سے چلنے والی پرائیویٹ گاڑیوں کے مالکان کے لیے بھی ایندھن کا اضافی خرچ بڑھ جائے گا۔ مسلسل بڑھتی قیمتوں کے درمیان دہلی-این سی آر میں سی این جی گاڑی چلانے والے لوگوں کے لیے ایندھن کا خرچ ایک بڑی تشویش بنتا جا رہا ہے۔ اس کے باعث آٹو ڈرائیور آنے والے دنوں میں اپنا کرایہ بھی بڑھانے لگیں گے، جس کا اثر تمام لوگوں پر پڑے گا۔
آئی جی ایل نے ایک بیان میں کہا کہ سی این جی کے لیے درکار گیس کا ایک بڑا حصہ درآمدی ایل این جی کے ذریعہ پورا کیا جاتا ہے، اور مغربی ایشیا میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آئی جی ایل نے مزید کہا کہ ’’بین الاقوامی ایل این جی کی قیمتیں بلند رہیں، اور اس نے لاگت کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ اس لیے سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کو جزوی طور پر پورا کرنے کے لیے، 3.89 روپے فی کلو کا اضافہ ضروری ہو گیا ہے۔‘‘