ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے 101 تعلقہ جات خشک سالی سے متاثرہ قرار، مزید علاقوں کا 15 دن جائزہ لیا جائے گا: پرمیشور

کرناٹک کے 101 تعلقہ جات خشک سالی سے متاثرہ قرار، مزید علاقوں کا 15 دن جائزہ لیا جائے گا: پرمیشور

Sun, 30 Aug 2026 12:09:09    S O News

میسورو، 30/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیرِ محصولات ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ ریاست کے 101 تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ مزید 15 دن تک صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر مزید تعلقہ جات خشک سالی کے مقررہ معیار پر پورے اترتے ہیں تو انہیں بھی متاثرہ علاقوں میں شامل کیا جائے گا۔

میسورو میں آج کانگریس قائدین کی رہائش گاہ پر ملاقات کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ رواں ماہ کے اختتام یا ستمبر کے پہلے ہفتے تک مرکز کو ریاست میں خشک سالی سے متعلق رپورٹ پیش کردی جائے گی۔ فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور اس کی بنیاد پر مرکز کو پیش کرنے کے لیے یادداشت تیار کی جائے گی۔ اس کے بعد مرکزی حکومت کی ٹیمیں ریاست کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیں گی، جس کے بعد خشک سالی سے متعلق امداد جاری ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کو فی ایکڑ کتنی امدادی رقم فراہم کی جائے، اس بارے میں حکومت فیصلہ کرے گی۔ خشک سالی کی صورتحال میں عوام کو مناسب پینے کا پانی فراہم کرنا، مویشیوں کے لیے چارے کا انتظام کرنا اور لوگوں کو روزگار کی تلاش میں نقل مکانی سے روکنے کے لیے ضروری ترقیاتی کام شروع کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے ہی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ 2023 میں ریاست کو خشک سالی کے باعث تقریباً 39,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا اور مرکز سے 18,000 کروڑ روپے کی امداد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم، مرکزی حکومت کی جانب سے مناسب امداد نہ ملنے پر ریاست کو دہلی میں احتجاج کرنا پڑا اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد 3,500 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ گزشتہ صورتحال کو دوبارہ پیدا نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اس مرتبہ مرکز سے واضح طور پر درخواست کی ہے کہ گزشتہ مرتبہ پیش آنے والے واقعات دوبارہ نہ دہرائے جائیں۔ ریاست کی جانب سے پیش کی جانے والی یادداشت خشک سالی کے اعلان کے لیے مقررہ معیار کے مطابق تیار کی جا رہی ہے۔ مرکز اس کا جائزہ لے کر ریاست کو مناسب امدادی رقم جاری کرے۔

نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ریاستی آفاتِ سماوی راحت فنڈ کے تحت 1,200 کروڑ روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیکن یہ رقم ابھی ریاست کو جاری کی جانی باقی ہے۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ 1,200 کروڑ روپے فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس رقم کی دستیابی کے بعد کسانوں کو معاوضہ فراہم کرنے میں سہولت ہوگی اور رقم جاری ہونے کے ایک ہفتے یا زیادہ سے زیادہ 10 دن کے اندر کسانوں کو امداد فراہم کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی رقم میں ریاست کا حصہ 25 فیصد جبکہ مرکز کا حصہ 75 فیصد ہوگا۔

سابق وزیر بی ناگیندر کے استعفے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ ناگیندر نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، اس کے باوجود بی جے پی نے ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیاسی دباؤ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ناگیندر نے پارٹی کے ایک نظم و ضبط کے پابند کارکن کی حیثیت سے حکومت کے لیے کسی قسم کی شرمندگی کا باعث نہ بننے کے مقصد سے استعفیٰ دیا ہے، حالانکہ انہیں استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی تفتیشی بیورو اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی چارج شیٹ میں ناگیندر کا نام شامل نہیں تھا۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ وہ اس معاملے سے واقف ہیں کیونکہ وہ وزیر داخلہ کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلاوجہ سیاست کرتے ہوئے ناگیندر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا اور آنے والے دنوں میں حکومت عوام کے سامنے اصل صورتحال واضح کرے گی۔

اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی میں اٹھائے گئے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن سے کہا تھا کہ اگر ان کے پاس اس معاملے سے متعلق دستاویزات موجود ہیں تو وہ انہیں ایوان میں پیش کریں، حکومت قانونی اور حقائق کی بنیاد پر تمام سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کے پاس ٹھوس دستاویزات موجود نہیں تھیں اور محض سیاسی مقصد کے تحت معاملے کو طول دیا گیا۔

سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی مبینہ خاموشی سے متعلق سوال پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سدارامیا خاموش نہیں ہیں۔ وہ اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے اور ایوان میں موجود رہے۔ انہوں نے کہا کہ سدارامیا ایک دو ماہ آرام کرنے کے بعد دوبارہ سیاسی سرگرمیوں میں پوری طرح متحرک ہوجائیں گے۔


Share: