نئی دہلی ، 31/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) نیپال میں آنے والے بھیانک سیلاب کے باعث وہاں پھنس جانے والے ہندوستانیوں کی وطن واپسی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ مغربی بنگال، مہاراشٹر اور کیرالہ کے وہ افراد، جنہیں سیلاب سے متاثرہ نیپال سے بحفاظت نکالا گیا، اتوار کے روز وطن واپس پہنچنے پر خود کو خوش قسمت قرار دیا۔ انہوں نے تباہ کن سیلاب کے دوران موت کے منہ سے بچ نکلنے کے اپنے لرزہ خیز تجربات بھی بیان کیے۔
مغربی بنگال کے بشیر ہاٹ میں وطن واپس پہنچنے کے بعد انوکول پودار نے بتایا کہ ’’سانحے کے روز میں اور میری اہلیہ سیاحوں کے گروپ کے ساتھ کھٹمنڈو سے نیپال-چین سرحد پر واقع راسووا جا رہے تھے۔ اس دن ہم صبح۳۰:۶؍ بجے کھٹمنڈو کے اپنے ہوٹل سے دو بسوں میں روانہ ہوئے۔ تقریباً تین سے چار گھنٹے بعد دونوں گاڑیاں رک گئیں۔ بعد میں ڈرائیور نے ہمیں بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے ڈرائیوروں کو اطلاع دے دی تھی اور وہ مزید آگے نہیں جا سکتے تھے۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہم نے سڑک پر اسکول کے بچوں کا ہجوم دیکھا، کیونکہ اسکول بند کر دیے گئے تھے۔ بہت سے بچے پہاڑی کی جانب بھاگ رہے تھے۔‘‘انہوں نے مزید بتایا، ’’بعد میں ڈرائیور ہمیں پہاڑی پر ایک اونچی جگہ لے گئے۔ ہم صرف یہ دیکھ سکتے تھے کہ سفید بادل جیسا ایک سیلابی ریلا دریا میں نیچے کی طرف بہہ رہا ہے۔ ہم نے اپنی زندگی میں اس طرح کا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہم کچھ دیر پہاڑی پر کھڑے رہے اور اس ریلے کو آہستہ آہستہ نیچے کی طرف جاتے دیکھتے رہے۔ کچھ دیر بعد ڈرائیور نے کہا کہ ہمیں واپس لوٹنا ہوگا، ورنہ اگر سڑک بند ہو گئی تو ہم واپس نہیں جا سکیں گے۔‘‘
کیرالہ کے کاسرگوڈ میں۳۶؍ رکنی ملیالی گروپ کے پانچ افراد بھی نیپال میں پھنس جانے کے بعد بحفاظت وطن واپس پہنچ گئے۔آئی اےاین ایس سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شخص، جسے بچا لیا گیا تھا، نے بتایا،’’۲۶؍ اگست کو ہم کھٹمنڈو سے گورکھا ضلع میں واقع مناکامنا مندر جا رہے تھے۔ راستے میں ڈرائیور نے بس روک دی اور بتایا کہ ایک حادثہ پیش آیا ہے۔ جب ہم بس کے اندر انتظار کر رہے تھے تو ہم نے دیکھا کہ ہمارے آس پاس موجود گاڑیوں کے مسافر نیچے اتر کر پیچھے کی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے خوفناک منظر بیان کرتے ہوئے کہا، ’’ہم بھی بس سے اتر کر ان کے پیچھے بھاگے اور دور سے دیکھا کہ عمارتوں کے کچھ حصے، درخت، لوگ اور چھوٹی گاڑیاں دریا میں بہہ رہی تھیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اوپر کی جانب ایک ڈیم ٹوٹ گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا،’’دوپہر کے وقت ہم نے بس کا رخ جنگل کی طرف موڑ دیا اور تقریباً ۶۰؍کلومیٹر جنگل کے اندر سفر کیا۔ اس وقت ہمیں لگا کہ شاید ہم کبھی واپس گھر نہیں پہنچ سکیں گے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق نیپال میں پھنسنے والے کیرالہ کے ۴۴؍باشندے بھی اس وقت گورکھپور میں موجود ہے۔ یہ گروپ بس کے ذریعے گورکھپور سے بنگلورو آئے گا اور پھر پیر کی صبح کوزی کوڈ پہنچے گا۔