ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مرکزی حکومت کی ہر اسکیم کا مقصد اڈانی اور مودی کو فائدہ پہنچانا ہے: شکتی سنگھ گوہل

مرکزی حکومت کی ہر اسکیم کا مقصد اڈانی اور مودی کو فائدہ پہنچانا ہے: شکتی سنگھ گوہل

Mon, 31 Aug 2026 17:11:17    S O News

نئی دہلی، 31/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس کے قومی ترجمان اور سابق رکن پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل نے پریس کانفرنس کر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت میں ہر منصوبہ صرف اڈانی اور خود نریندر مودی کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ کابینہ نے ایسے ہی ایک منصوبہ کو منظوری دی ہے جس کا نام ’سمندر منتھن یوجنا‘ ہے۔ اس منصوبہ کے تحت ہندوستانی حکومت پہلے مرحلہ کے لیے 84084 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ مودی حکومت اس منصوبہ کا 50 فیصد پیسہ براہ راست اس کمپنی کو دے گی جو سمندرمیں تیل-گیس تلاش کرنے کا کام کرے گی۔ واضح ہے کہ اس ’سمندر منتھن‘ سے عوام کے حصے میں زہر اور اڈانی کے حصے میں امرت آنے والا ہے۔‘‘

شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ ’’گجرات میں جب نریندر مودی وزیر اعلیٰ تھے تب تیل-گیس کی تلاش کے لیے 27000 کروڑ روپے دیے گئے تھے۔ لیکن کیگ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اس میں کچھ بھی نہیں ملا یعنی پورا پیسہ پانی میں چلا گیا اور صرف کاغذوں میں کنوئیں بنائے گئے۔ اب سمندر منتھن منصوبہ میں 84084 کروڑ روپے دیے جانے ہیں۔ اس میں کئی مراحل ہیں، جس میں پہلے بلاک خریدے جاتے ہیں، پھر انوائرمنٹ کلیئرنس لیا جاتا ہے۔ لیکن اڈانی کو پہلے سے ہی ہر طرح کے کلیئرنس ملے ہوئے ہیں اور ان کے 3 بلاک پوری طرح سے تیار ہیں۔ یعنی سمندر منتھن منصوبہ کے بارے میں جیسے ہی حکومت جانکاری دیتی ہے ویسے ہی پرنو اڈانی ٹویٹ کر کے نریندر مودی کی تعریف کرتے ہیں۔‘‘

کانگریس لیڈر کے مطابق 2005 میں اڈانی اور ویلسپن نے آئل-گیس کی تلاش کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بنایا۔ اس میں اڈانی گروپ کی 65 فیصد اور ویلپسن کی 35 فیصد حصہ داری ہے لیکن یہ کمپنی خسارے میں چل رہی ہے۔ ایسے میں ایک منصوبہ بنایا گیا ’سمندر منتھن یوجنا‘۔ اس منصوبہ کے بعد کمپنی کے ایم ڈی لکھتے ہیں کہ مودی حکومت کے اس منصوبہ سے ہم چھلانگ لگا کر آگے بڑھنے جا رہے ہیں۔ واضح ہے کہ اس منصوبہ کا فائدہ اڈانی-ویلسن گروپ کو ملنے جا رہا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے قومی ترجمان نے کہا کہ ’’اڈانی کے ساتھ جس ویلپسن گروپ کا نام سامنے آیا ہے، اس نے الیکٹورل بانڈ میں بی جے پی کو 10 کروڑ کا چندہ دیا تھا۔ مہاراشٹر میں انتخاب کے وقت بھی 6600 ایم ڈبلیو کا ٹینڈر براہ راست اڈٓانی کو ملا تھا اور یہ سنگل ٹینڈر تھا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مدھیہ پردیش کے سنگرولی میں اڈانی کو کول مائننگ بلاک دیے گئے، جس میں ماحولیات، ٹائیگر ریزرو اور ہاتھیوں کے کوریڈور سے جڑے معاملے اٹھے لیکن تمام باتوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ لوک سبھا میں جب اس سے بارے میں سوال پوچھا گیا تو جواب ملا کے گرام سبھا سے تجویز پاس کرانا لازمی ہے، لیکن اڈانی سے جڑے کول بلاک کے معاملے مں ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘‘

سابق رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ’’کچھ میں کاپر کے لیے ایک انڈسٹری لگائی گئی ’کچھ کاپر لمیٹڈ‘۔ کاپر کے لیے خامل مال امپورٹ کرنا پڑتا ہے، جس کے اوپر 2.5 فیصد کسٹم ڈیوٹی تھی لیکن کمپنی اڈانی کی ہے اور مودی حکومت میں اڈانی کسٹم ڈیوٹی کیسے ادا کر سکتا ہے۔ ایسے میں مودی حکومت نے 24 جون 2025 کو کاپر کے اوپر سے پوری کسٹم ڈیوٹی ہٹا دی۔‘‘

پریس کانفرنس کے آخر میں شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ ’’ہمار مطالبہ ہے کہ سمندر منتھن منصوبہ کو فوری اثر سے ختم کیا جائے۔ تیل اور گیس کی تلاش کے لیے او این جی سی کو 84084 کروڑ روپے دیے جائیں نہ کہ کسی پرائیویٹ ادارے کو۔ گجرات کے جی ایس پی سی سے متعلق کیگ رپورٹ پر عدالتی جانچ ہو۔ گزشتہ چند سالوں میں ملک میں دستیاب تیل-گیس کی مقدار میں کیوں کمی ہوئی، حکومت اس کا بھی جواب دے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جب ملک کے نوجوان بے روزگار ہیں اور کسان پریشان ہیں تو 84084 کروڑ روپے پرائیویٹ کمپنیوں کو کیوں دیے جا رہے ہیں۔‘‘


Share: