بنگلورو، 31/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے امریکہ میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے ہندوتوا، مسلمانوں اور ’’ہندو راشٹر‘‘ کے حوالے سے دیے گئے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اور بیرون ملک آر ایس ایس کے موقف اور زبان میں واضح فرق نظر آتا ہے۔
نیویارک میں 29 اگست کو منعقدہ ’’ایک دنیا، ایک انسانیت‘‘ کے عنوان سے بین مذہبی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ ہندوتوا کا تصور ایسے ہندوستان کا خواہاں نہیں جہاں مسلمان موجود نہ ہوں۔ ان کے اسی بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’سامعین بدل جائیں تو زبان میں بھی کتنا بڑا بدلاؤ آجاتا ہے!‘‘
پریانک کھرگے نے کہا کہ آر ایس ایس گزشتہ ایک صدی سے ہندوستان میں ’’ہندو راشٹر‘‘ کے تصور کی حمایت کرتا آرہا ہے، جبکہ امریکہ میں مذہبی ہم آہنگی، عالمی انسانی اتحاد اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے معاشرے کی بات کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان میں پیش کیے جانے والے سیاسی و نظریاتی موقف اور بیرون ملک دیے جانے والے پیغام کے درمیان موجود فرق پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے موہن بھاگوت کے تین ممالک کے دورے اور بیرون ملک دیے جانے والے ’’عالمی انسانی اتحاد‘‘ کے پیغام کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا کہ کیا آر ایس ایس بیرون ملک مقیم ہندوستانی نژاد افراد سے چندہ جمع کرنے کے لیے اس دورے اور پیغام کو استعمال کررہی ہے؟
پریانک کھرگے نے بیرون ملک ہندوستانی برادری کو منظم کرنے میں آر ایس ایس کے بین الاقوامی تنظیمی نیٹ ورک کے کردار کی بھی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ہندو سویم سیوک سنگھ کی سرگرمیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کو منظم کرنے اور چندہ جمع کرنے کے عمل میں اس تنظیم کا کیا کردار ہے، اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔
وزیر داخلہ نے نیویارک میں منعقدہ اس پروگرام کی میزبان تنظیم اے ہیڈ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق یہ تنظیم خود کو بین مذہبی مکالمے، مذہبی ہم آہنگی اور سب کو شامل کرنے والے مستقبل کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے، تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے بانیوں کے آر ایس ایس کے ماحول سے روابط ہیں۔
پریانک کھرگے نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے بیرون ملک روابط، تنظیمی نیٹ ورک اور چندہ جمع کرنے کے نظام کی جامع جانچ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق بیرون ملک عالمی انسانی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کی بات کرنے کے ساتھ ہندوستان میں آر ایس ایس کی جانب سے پیش کیے جانے والے ’’ہندو راشٹر‘‘ کے تصور پر بھی عوام کو سوال اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے آر ایس ایس کی سرگرمیوں اور اس کے تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے اپنی سابقہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آر ایس ایس کو باقاعدہ طور پر رجسٹر کرنے کے اپنے سابقہ مطالبے کو بھی دوبارہ دہرایا۔