بھٹکل 6/ستمبر (ایس او نیوز): شیرالی کے گوڈی ہٹل میں مدرسہ کو سڑک سے جوڑنے کے لیے مبینہ طور پر بغیر اجازت سرکاری اراضی کے ایک مختصر حصے کے استعمال کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد محکمۂ روینو کے افسران نے پولیس کی موجودگی میں متنازع راستے کو بند کرتے ہوئے متعلقہ مقام پر باڑ لگادی اور انتباہی بورڈ نصب کردیا۔
شیرالی گوڈی ہٹل میں سڑک سے متصل ایک مدرسہ واقع ہے۔ مدرسہ تک آسان آمد و رفت کے لیے اس کی کمپاؤنڈ دیوار میں موجود گیٹ کھول کر سڑک کے کنارے واقع محکمۂ روینو کی معمولی سی زمین کو استعمال کرتے ہوئے مدرسہ کے لیے راستہ بنایا گیا تھا۔


سرکاری زمین کے اس استعمال پر مقامی سطح پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد علاقے میں کشیدگی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اعتراض کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ سڑک کے کنارے موجود سرکاری اراضی کو مدرسہ کے راستے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور مبینہ تجاوزات کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ سے مدرسہ آنے جانے کے لیے مسجد کے احاطے سے گزرنے والا راستہ استعمال ہوتا رہا ہے، اس لیے اسی راستے کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مدرسہ کے گیٹ کے قریب موجود سڑک پہلے ہی تنگ اور موڑ والی ہے۔ اگر مدرسہ کے لیے اس مقام سے باقاعدہ راستہ فراہم کیا گیا تو مدرسہ آنے والی گاڑیوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہوگا، جس سے مذکورہ موڑ حادثات کے لیے خطرناک مقام بن سکتا ہے۔
اعتراض کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سڑک سے بڑی تعداد میں اسکولی بچے گزرتے ہیں۔ مدرسہ کے لیے راستہ کھولنے کے نتیجے میں اس سڑک پر گاڑیوں کی آمد و رفت بڑھے گی، جس سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مدرسہ کے گیٹ سے آگے بھی محکمۂ روینو کی مزید اراضی موجود ہے اور اگر موجودہ تجاوز کو برقرار رہنے دیا گیا تو مستقبل میں سرکاری اراضی پر مزید تجاوزات کا راستہ کھل سکتا ہے۔
مسجد انتظامیہ کا موقف:

دوسری جانب مسجد کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ مدرسہ اپنی ذاتی اراضی پر قائم ہے اور براہِ راست سڑک سے متصل ہے۔ مدرسہ تک سڑک رابطہ فراہم کرنے کے لیے صرف سڑک کے کنارے موجود سرکاری اراضی کے ایک انتہائی معمولی حصے کو استعمال کیا گیا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس مقصد کے لیے محکمۂ روینو سے اجازت حاصل نہیں کی تھی اور اسی کا بہانہ پیش کرتے ہوئے اعتراض جتایا جارہا ہے کہ یہاں سے راستہ نہیں دیا جانا چاہئیے۔
ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اگر اسی جگہ کوئی دوسرا ادارہ یا کسی کی نجی جائیداد ہوتی تو کیا اسے سڑک سے رابطہ حاصل کرنے کا حق حاصل نہ ہوتا؟ ذمہ داران نے الزام لگایا کہ گوڈی ہٹل میں فرقہ وارانہ تعصب کی بنیاد پر مدرسہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور غیر ضروری طور پر اس معاملے کے ذریعے سماج میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ذمہ داران کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر دیگر مقامات پر سڑک سے رابطے کے لیے سرکاری اراضی کا استعمال کیا گیا ہے تو کیا وہاں بھی اسی طرح تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کی جائے گی؟
ایس پی دیپن ایم این نے موقع پر پہنچ کر کیا معائنہ
صورتحال کے پیش نظر اتر کنڑا ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپن ایم این نے کاروار سے بھٹکل پہنچ کر مدرسہ کے متعلقہ مقام کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ افراد سے صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور واضح کیا کہ اگر کسی نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس موقع پر بھٹکل اے ایس پی رانو گپتا، سی پی آئی دیواکر، سی پی آئی وینکٹیش اور ایس آئی بھرمپا سمیت دیگر پولیس اہلکار موجود تھے۔
پولیس کی نگرانی میں باڑ اور انتباہی بورڈ:
دریں اثنا، اے ایس پی رانو گپتا کے موقع کا دورہ کرکے واپس جانے کے کچھ ہی دیر بعد محکمۂ روینو کے افسران نے مبینہ طور پر بغیر اجازت بنائے گئے سڑک رابطے کو ہٹا دیا۔ بعد ازاں متنازع مقام پر باڑ تعمیر کی گئی اور سرکاری اراضی پر دوبارہ تجاوز نہ کرنے کی ہدایت پر مبنی انتباہی بورڈ بھی نصب کردیا گیا۔
یہ کارروائی پولیس کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ اس موقع پر محکمۂ روینو کے انسپکٹر سری نواس بھی موجود تھے۔
واقعے کے بعد علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔ فی الحال محکمۂ روینو کی کارروائی کے بعد مدرسہ کے لیے اس متنازع راستے کا استعمال روک دیا گیا ہے۔