ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کیرالہ میں پارک لاری سے کار کی زوردار ٹکر؛ آٹھ نوجوان جاں بحق

کیرالہ میں پارک لاری سے کار کی زوردار ٹکر؛ آٹھ نوجوان جاں بحق

Sat, 05 Sep 2026 07:30:51    S O News
کیرالہ میں پارک لاری سے کار کی زوردار ٹکر؛ آٹھ نوجوان جاں بحق

تھریسور: 5/ستمبر (ایس او نیوز) کیرالہ کے تھریسور ضلع میں پیش آئے ایک دلخراش سڑک حادثے میں کار میں سوار تمام آٹھ نوجوانوں کی موت واقع ہوگئی۔ حادثہ کیپّامنگلم کے پنامبکّنّو علاقے میں جمعہ کی نصف شب اس وقت پیش آیا جب تمل ناڈو رجسٹریشن والی ایک کار قومی شاہراہ پر سڑک کے کنارے پارک کی گئی مال بردار لاری کے پچھلے حصے سے جا ٹکرائی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کار میں سوار تمام افراد تمل ناڈو کے ڈِنڈیگُل میں واقع PSNA انجینئرنگ کالج کے طلبہ تھے، جو سیاحت کے لیے کیرالہ آئے تھے۔ حادثہ جمعہ کی رات تقریباً 11:42 بجے قومی شاہراہ 66 کے پنامبکّنّو سینٹر کے قریب پیش آیا۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں سیلم کے رہنے والے 20 سالہ وِشوا، ڈِنڈیگُل کے 20 سالہ سوریا، مدورائی کے 20 سالہ سنتوش، مدورائی کے پرسنّا اور ڈِنڈیگُل کے 20 سالہ یوسنجیت شامل ہیں۔ دیگر تین متوفیوں کی شناخت ابھی نہیں ہوسکی ہے۔

تصادم اتنا شدید تھا کہ کار بری طرح تباہ ہوگئی اور اس میں سوار افراد اندر ہی پھنس گئے۔ مقامی افراد کے علاوہ پولیس اور فائر اینڈ ریسکیو اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ ریسکیو ٹیموں نے گاڑی کو کاٹ کر متاثرین کو باہر نکالا، تاہم تمام آٹھ افراد موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔

حادثہ قومی شاہراہ 66 کے زیر تعمیر حصے میں ایک ڈائیورژن کے قریب پیش آیا۔ ملیالم میڈیا کے مطابق حادثے کے وقت سڑک کے کنارے تین لاریاں کھڑی تھیں اور کار ان میں سے مہاراشٹرا رجسٹریشن والی ایک لاری کے پچھلے حصے سے ٹکرا گئی۔ مقامی لوگوں نے قومی شاہراہ پر مناسب انتباہی بورڈ نہ ہونے اور لاری کے سڑک کی پہلی لین میں کھڑے ہونے پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ تاہم حادثے کی حتمی وجہ کا تعین پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔

حادثے میں استعمال ہونے والی کار بھی تمل ناڈو میں رجسٹرڈ تھی۔ لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے تھریسور میڈیکل کالج منتقل کردیا گیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں اہل خانہ کے حوالے کیے جانے کی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

Click here for report in English 


Share: