بنگلورو، 21/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) نائب وزیر اعلیٰ اور وزیرِ محصولات ڈاکٹر جی۔ پرمیشور نے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے اور عوامی فلاح کے اقدامات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ذات کا سرٹیفکیٹ تحصیلدار ہی جاری کرتے تھے، اس لیے موجودہ نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے دوران ذات کے سرٹیفکیٹ طلب کیے جا رہے ہیں، اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں پیدائش یا مقررہ شرائط پوری کرنے والے افراد کو مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ بیشتر افراد کے پاس 2002 کی ووٹر فہرست کا ریکارڈ موجود ہے، تاہم جن کے پاس مطلوبہ دستاویزات نہیں ہیں، ان کے لیے یہ سرٹیفکیٹ مفید ثابت ہوگا۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی خود اسمبلی میں بارہا یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ بنگلہ دیشی اور دیگر ریاستوں کے افراد سرکاری سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکومت نے اسی تناظر میں ایک شفاف اور قانونی نظام وضع کیا ہے۔ اگر کوئی شخص گزشتہ دس برس سے کرناٹک میں رہائش پذیر ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے تو اسے سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں قانون سے ہٹ کر کام نہیں کر رہی اور نہ ہی مرکزی حکومت کے خلاف جا رہی ہے۔
خشک سالی کی صورتحال پر سوال کے جواب میں نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ابھی خشک سالی کے باضابطہ اعلان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کسانوں، عام شہریوں اور روزگار کی تلاش میں نقل مکانی پر مجبور افراد کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کرے گی۔
کابینہ میں توسیع سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اعلیٰ رہنما دہلی میں موجود ہیں اور ہائی کمان کی منظوری کے بعد ہی کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ اس مرتبہ نوجوان قیادت کو زیادہ نمائندگی دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
سال 2028 کے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ میں توسیع کیے جانے کے سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی مخصوص معلومات نہیں ہیں، تاہم فیصلہ طے شدہ معیار کے مطابق ہی کیا جائے گا۔
خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تمام ڈپٹی کمشنروں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ متعلقہ تعلقوں کی صورتحال کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے، جس کے بعد آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے ہر ضلع کو 5 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنروں کے فنڈ میں 329 کروڑ روپے دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ ہر تعلقہ کے لیے 1 کروڑ روپے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو حکومت کے اقدامات سے آگاہ رہتے ہوئے ذمہ داری کے ساتھ بیانات دینے چاہئیں۔