بنگلورو، 20/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر شہری ترقی ڈاکٹر یتیندر سدارامیا نے آج ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور کی موجودگی میں ریاست کے تمام ڈپٹی کمشنروں اور ضلع پنچایتوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کے ساتھ منعقدہ ویڈیو کانفرنس اجلاس میں شرکت کی، جس میں ریاست میں خشک سالی کی صورتحال اور امدادی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں دیہی تعلقوں میں پینے کے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہر دیہی تعلقہ کو اضافی ایک کروڑ روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تاکہ عوام کو پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ نئے بورویل کی کھدائی کے دوران لازمی طور پر ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے۔ اگر فرضی یا جعلی بورویل کے معاملات سامنے آئے تو متعلقہ ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو افسر کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ 15 دنوں کے اندر ریاست میں خشک سالی کی صورتحال پر ایک جامع رپورٹ مرکزی حکومت کو ارسال کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے تمام اضلاع سے مستند معلومات اکٹھی کرنے اور مرکزی ٹیم کو زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
حکام کو ہدایت کی گئی کہ چھوٹے اور انتہائی چھوٹے کسانوں کے مفادات کا خصوصی تحفظ کیا جائے اور محکمہ زراعت، محکمہ مویشی پروری اور محکمہ دیہی ترقی باہمی اشتراک سے مؤثر انداز میں کام کریں۔
بجلی کی فراہمی کو بلا تعطل برقرار رکھنے کے لیے خراب ٹرانسفارمروں کی فوری مرمت اور اضافی ٹرانسفارمر دستیاب رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ اس مقصد کے لیے پہلے ہی خصوصی رعایت فراہم کی جا چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے افسران پر زور دیا کہ وہ صرف کاغذی رپورٹوں پر انحصار نہ کریں بلکہ میدان میں جا کر حقیقی صورتحال کا جائزہ لیں اور "ٹیم کرناٹک" کے جذبے کے ساتھ اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی تک ریاست میں جنوب مغربی مانسون کی بارش معمول سے 39 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہے۔ 170 سے زائد تعلقوں میں بارش کی شدید کمی دیکھی گئی، جبکہ وجئے نگر ضلع میں سب سے زیادہ 67 فیصد بارش کی کمی درج کی گئی۔
علاقائی سطح پر ملیناڈ میں 43 فیصد، ساحلی کرناٹک میں 35 فیصد، شمالی اندرونی علاقوں میں 33 فیصد اور جنوبی اندرونی علاقوں میں 31 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ ہوئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ریاست کے بڑے آبی ذخائر میں اس وقت مجموعی صلاحیت کا صرف 40 فیصد پانی موجود ہے۔ اس وقت ذخائر میں 359.98 ٹی ایم سی پانی دستیاب ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ مقدار 681.83 ٹی ایم سی تھی۔
لِنگن مکی، سوپا اور وراہی جیسے آبی ذخائر میں صرف اوسطاً 23 فیصد پانی موجود ہے، جبکہ کاویری طاس کے ذخائر میں 51 فیصد اور کرشنا طاس کے ذخائر میں 48 فیصد پانی ذخیرہ ہے۔
اجلاس میں کسانوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت کو ترجیح دیں تاکہ خشک سالی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت نے یقین دلایا کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
اس موقع پر وزراء کے جے جارج، رام لنگا ریڈی، ایشور کھنڈرے سمیت متعدد اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔