نئی دہلی 20/جولائی (ایس او نیوز): دہلی میں "پارلیمنٹ چلو" مارچ کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن دارالحکومت کا سیاسی ماحول کشیدہ ہو گیا۔ جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے ہزاروں طلبہ، نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کو روکنے کے لیے دہلی پولیس نے سخت سیکورٹی انتظامات، بھاری بیریکیڈنگ اور اضافی نفری تعینات کی۔
بتایاجارہا ہے کہ جب مظاہرین نے مبینہ طور پر رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی تو متعدد مقامات پر پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے لاٹھیاں چلا کر انہیں منتشر کیا، جبکہ کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے جاری یہ احتجاج گزشتہ دو ماہ سے چل رہا ہے۔ اور یہ نوجوان تحریک کا تازہ مرحلہ ہے، جو میڈیکل اور دیگر مسابقتی امتحانات کے پیپر لیک، تعلیمی بدعنوانیوں اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ تحریک اب وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کو درپیش سب سے بڑے عوامی چیلنجوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تحریک کو کروڑوں افراد کی حمایت حاصل ہو چکی ہے اور اب اس کا دائرہ صرف امتحانی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں میں بے روزگاری، شفاف طرز حکمرانی اور احتساب جیسے وسیع تر مسائل تک پھیل چکا ہے۔
احتجاج اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک کو، جو 21 روز سے بھوک ہڑتال پر تھے، پولیس نے دو روز قبل انہیں مبینہ طور پر جنتر منتر سے زبردستی اٹھا کر صفدرجنگ اسپتال منتقل کر دیا تھا وانگچک کے حامیوں کا الزام ہے کہ انہیں ان کی مرضی کے خلاف احتجاجی مقام سے ہٹایا گیا، جس کے بعد رات بھر ہزاروں افراد جنتر منتر پہنچ گئے اور "پارلیمنٹ چلو" مارچ میں شریک ہونے کا اعلان کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاجی مقام پر صبح سے ہی غیر معمولی کشیدگی دیکھی گئی۔ ریپڈ ایکشن فورس (RAF) اور دیگر سیکورٹی اہلکار بڑی تعداد میں تعینات رہے، جبکہ پارلیمنٹ کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ مظاہرین مسلسل "طلبہ کو انصاف دو"، "پیپر لیک بند کرو" اور "وزیر تعلیم استعفیٰ دو" جیسے نعرے لگاتے رہے۔ یاد رہے کہ کئی اپوزیشن رہنما، سماجی کارکن اور فلمی شخصیات بھی گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران جنتر منتر پہنچ کر مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کر چکے ہیں۔
سونم وانگچک نے اسپتال سے جاری اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ان کی نقل و حرکت، اظہارِ رائے اور رابطوں کی آزادی محدود کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں ان کے مطالبات، خصوصاً امتحانی نظام میں اصلاحات اور احتساب، پر سنجیدہ پیش رفت کی یقین دہانی کرائی جائے تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر غور کریں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مانسون اجلاس کے دوران اگرچہ اپوزیشن کی اولین ترجیحات میں رام مندر چندہ تنازع، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) اور دیگر سیاسی معاملات شامل ہیں، تاہم جنتر منتر سے سونم وانگچک کو ہٹانے، "پارلیمنٹ چلو" مارچ پر پولیس کارروائی اور طلبہ تحریک سے متعلق معاملات بھی آئندہ دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی محاذ کھول سکتے ہیں، کیونکہ اپوزیشن کی کئی جماعتیں پہلے ہی احتجاج کے حق اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق سوالات اٹھا رہی ہیں۔
پارلیمنٹ کے پہلے ہی دن سڑکوں پر احتجاج اور ایوان کے اندر اپوزیشن کے جارحانہ تیور اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں تک حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بیک وقت سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔