نئی دہلی، 15/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) پرچہ لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اوراس کے تعلق سے مودی حکومت کی بے حسی نے اب پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے۔ بدھ کو سونم کی بھوک ہڑتال کا ۱۸؍ واں دن ہوگا۔ان کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے اور وزن ۸ء۵؍ کلو گھٹ گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق شوگر اور بلڈ پریشر کے لو ہونے کے ساتھ ہی اب ان کے پٹھے بھی کمزور پڑ رہے ہیں تاہم وہ ہڑتال ختم کرنے کوتیار نہیں ہیں۔
وانگ چک کی بگڑتی صحت کے پیش نظر ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، شیو سینا (ادھو) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال سمیت کئی لیڈروں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ممتا بنرجی نے فون پر وانگ چک کی خیریت دریافت کی، انہیں حوصلہ دیا اور طلبہ کے انصاف کیلئے جاری تحریک کی حمایت کا یقین دلایا۔
اکھلیش یادو نے ایکس پر لکھا ہے کہ سونم وانگ چک کی زندگی پوری دنیا کیلئے قیمتی ہے کیونکہ وہ انسانیت، ماحولیات اور جمہوریت کیلئے جدوجہد کی علامت ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت بے حس ہے اور اس سے کسی مثبت تبدیلی کی امید رکھنا بے سود ہے۔
اروند کیجریوال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سونم وانگ چک ملک کا سرمایہ ہیں، ان کی صحت خراب ہو رہی ہے، اس لئے وہ بھوک ہڑتال ختم کریں کیونکہ جدوجہد کے اور بھی راستے موجود ہیں۔ادھو ٹھاکرے سونم وانگ چک کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس تحریک کی حمایت کرنی چاہیے۔
فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ کے ’چتُر‘ یعنی اومی ویدیا نے ایک ویڈیو پیغام میں عوام سے اپیل کی کہ وہ سونم وانگ چک کی بگڑتی صحت پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ وانگ چک کی جان چلی جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ فلم میں عامر خان کا کردار’پھنسوک وانگڈو‘ سونم وانگ چک سے ہی متاثر تھا۔ان کے علاوہ سینئر اداکاروں زینت امان، نصیرالدین شاہ، رتنا پاٹھک شاہ، پرکاش راج، مصنفہ اروندھتی رائے اور ماہر معاشیات جیتی گھوش سمیت کئی شخصیات نے بھی حکومت سے وانگ چک کے ساتھ فوری مذاکرات شروع کرنے اور ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے عزم اور حوصلے کو سلام کرتے ہیں لیکن ان کی بگڑتی صحت پر شدید تشویش ہے۔
اس بیچ کاکروچ جنتا پارٹی کی ترجمان ویشنوی نے امتحانی نظام میں اصلاحات کیلئے ۵؍ نکاتی منشور پیش کرتے ہوئے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔منشور میں عوامی امتحانات کے موجودہ قانون کی جگہ شفافیت، جوابدہی اور امیدواروں کے حقوق پر مبنی نیا قانون بنانے، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو ختم کر کے قانونی حیثیت والا نیشنل ٹیسٹنگ کمیشن قائم کرنے، امتحانی اداروں کی لازمی سی اے جی آڈٹ، آزاد امتحانی محتسب، طلبہ کے حقوق کا چارٹر اور فلاحی فنڈ قائم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔