نئی دہلی ، 20/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)ٹی ایم سی اور شیوسینا (اُدھو) کے اراکین پارلیمان کی دل بدلی کے بعد ۲۰؍ جولائی سے شروع ہونےوالے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اپوزیشن کی تعداد پہلے سے کم ہوگئی ہے مگر حکومت کو من مانی سے روکنے کیلئے اس کا جذبہ اور بھی زیادہ سخت ہوگیا ہے۔ مانسون اجلاس سے ایک روز قبل کل جماعتی میٹنگ میں ہی ٹی ایم سی کے باغی اراکین کو بطور پارٹی مدعو کرنے پر اپوزیشن نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا۔ بہرحال بعد میں اپوزیشن نے میٹنگ میں شرکت کی۔پوزیشن نے لوک سبھا اسپیکر کے ذریعہ ترنمول کانگریس کے باغی ممبران پارلیمنٹ کیلئے علاحدہ نشستوں کی منظوری پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔اپوزیشن نے متعدد مسائل پر حکومت کو پارلیمنٹ میں گھیرنے کی حکمت عملی پہلے سے تیار کررکھی ہے۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے چند منٹ کیلئے آل پارٹی اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ یہ مودی حکومت کے ذریعہ میٹنگ میں ’این سی پی آئی ‘کو مدعو کرنے کے خلاف احتجاج تھا جسے ترنمول کانگریس کے ۲۰؍ باغی ممبران پارلیمنٹ کیلئے پارکنگ کے طور پر استعمال کیا جارہاہے۔این سی پی آئی میں مذکارہ اراکین کی شمولیت پر ابھی اسپیکر کافیصلہ آنا باقی ہے ۔اس سے قبل اسے کل جماعتی میٹنگ میں طلب کیا جانے کو غلط قرار دیاگیا ہے۔
وہ موضوعات جن پر اجلاس میں ہنگامہ یقینی ہے:
نیٹ پرچہ لیک:نیٹ سمیت قومی سطح کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیاں، پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات پر حکومت کو پارلیمنٹ میں جواب دینا پڑسکتاہے۔
رام مندر چڑھاوا چوری: رام مندر میں کروڑوں کا چڑھاوا چوری ہونے کے معاملے میں بھی اپوزیشن حکومت سے جواب طلب کریگی ۔
اتھنال کی ملاوٹ : اتھنال ملک گیر موضوع بن چکا ہے۔ عوام پریشان ہے، اپوزیشن کو نمائندگی کرنی ہوگی۔
اس کے علاوہ مہنگائی، بے روزگاری دیگر موضوعات۔