بنگلورو، 20/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے کہا ہے کہ ملک میں مختلف مسابقتی امتحانات کے سوالیہ پرچوں کے مسلسل افشا ہونے کے واقعات صرف امتحانی نظام کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی ساکھ اور کروڑوں طلبہ کے مستقبل پر سنگین حملہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام معاملات کی سپریم کورٹ کے سبکدوش جج کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدار قومی سطح کی تحقیقات کرائی جائیں اور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے۔
بنگلورو میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی کے ہری پرساد نے کہا کہ کانگریس قائد راہل گاندھی نے راجستھان کے کوٹہ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی دباؤ، طلبہ کی خودکشیوں اور امتحانی بے ضابطگیوں جیسے اہم مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے 2026 کے درمیان ملک میں 152 سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے کے واقعات پیش آئے، جن سے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان متاثر ہوئے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بیشتر سوالیہ پرچہ افشا ہونے کے واقعات ان ریاستوں میں پیش آئے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی برسراقتدار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف امتحانات تک محدود نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے والا ہے۔
بی کے ہری پرساد نے کہا کہ آزادی کے بعد ملک میں خواندگی کے فروغ، جامعات کے قیام اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی توسیع کے لیے جو بنیاد رکھی گئی تھی، موجودہ حالات اس ورثے کو کمزور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اسے سیاسی مفادات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے قرض لیتے ہیں، سخت محنت کرتے ہیں اور بڑی قربانیاں دیتے ہیں، لیکن جب امتحانات کے سوالیہ پرچے افشا ہوتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی طلبہ اور ان کے خاندانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
کرناٹک میں پولیس سب انسپکٹر بھرتی امتحان میں بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر احتجاج کرنے کے باعث ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جسے بعد میں عدالت نے خارج کر دیا۔
بی کے ہری پرساد نے مرکزی حکومت سے کئی سوالات کرتے ہوئے دریافت کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں کتنے سوالیہ پرچے افشا ہوئے، کتنے معاملات کی تحقیقات مکمل ہوئیں، کتنے ملزمان کو سزا ملی اور ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے حکومت نے کیا مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم سے بھی استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تعلیمی نظام مسلسل بحران کا شکار ہو تو خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کی جدوجہد کسی ایک امتحان کے لیے نہیں بلکہ ملک کے کروڑوں طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ امتحانی نظام کو شفاف بنانے، طلبہ کا اعتماد بحال کرنے اور مستقبل میں سوالیہ پرچوں کے افشا جیسے واقعات روکنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرے۔
پریس کانفرنس کے دوران سوالات کے جواب میں بی کے ہری پرساد نے کہا کہ کانگریس اس مسئلے کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ راہل گاندھی کو کرناٹک کے طلبہ سے بھی براہ راست گفتگو کی دعوت دی گئی ہے تاکہ ان کے مسائل کو سنا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا مستقبل سرحدوں پر نہیں بلکہ تعلیمی اداروں اور کلاس رومز میں تشکیل پاتا ہے، اس لیے حکومت کو طلبہ کے اعتماد کی بحالی اور معیاری و شفاف تعلیمی نظام کے قیام کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔