بنگلورو، 20/ اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر محصولات ڈاکٹر جی پرمیشور نے اپوزیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون ساز کونسل کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے ریاست کی ترقی، خشک سالی اور عوام کو درپیش سنگین مسائل پر ایوان میں بحث ہونے دیں۔
بدھ کے روز قانون ساز کونسل میں کارروائی میں خلل ڈالنے والے اپوزیشن ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ ریاست کے عوام ایوان کی کارروائی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن گزشتہ 2 دن سے ایوان میں کوئی بامعنی بحث نہیں ہو رہی ہے۔ ریاست کی ترقی، خشک سالی کی صورتحال اور عوامی مسائل پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے اور اپوزیشن کو اس میں تعاون کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے کئی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ دیہی علاقوں میں متعدد مقامات پر پینے کے پانی کی قلت ہے اور حکومت ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کررہی ہے۔ مویشیوں کے لیے چارے کی قلت بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے کئی اہم مسائل ہیں جن پر ایوان میں بحث کی جانی چاہیے۔
سابق وزیر ناگیندر کو دوبارہ کابینہ میں شامل کیے جانے پر اپوزیشن کے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اپوزیشن کو سوال اٹھانے سے نہیں روک رہے ہیں۔ اپوزیشن باقاعدہ نوٹس دے کر اس معاملے پر سوال کرسکتی ہے اور حکومت اس بات کا واضح جواب دے گی کہ ناگیندر کو دوبارہ وزیر کیوں بنایا گیا ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ ایوان کے قواعد کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم خود قواعد بنائیں اور پھر انہی قواعد کی خلاف ورزی کریں تو یہ کس حد تک درست ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز کونسل کو ’’بزرگوں کا ایوان‘‘ کہا جاتا ہے اور پورا ملک یہاں ہونے والی کارروائی پر نظر رکھتا ہے، اس لیے اس ایوان کے وقار اور احترام کو برقرار رکھنا تمام ارکان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اپوزیشن لیڈر اور تمام ارکان سے اپیل کی کہ وہ نوٹس دے کر سوالات اٹھائیں، بحث میں حصہ لیں اور ان کے پاس موجود تمام معلومات ایوان کے سامنے رکھیں۔ حکومت ان سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
خشک سالی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی سمیت مختلف مسائل کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو یادداشت پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کرناٹک میں تقریباً 75 سال بعد اس قدر سنگین خشک سالی کی صورتحال کا سامنا ہے۔ مرکزی حکومت نے خشک سالی کے اعلان کے لیے ضوابط مقرر کیے ہیں اور انہی ضوابط کے مطابق متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت تمام اضلاع کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ ضلعی رپورٹس موصول ہونے کے بعد جامع رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کی جائے گی۔ اس کے بعد مرکزی حکومت فیصلہ کرے گی اور ممکن ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی ٹیم ریاست کا دورہ کرے۔ اس کی رپورٹ کی بنیاد پر خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے اعلان سے متعلق فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے واضح کیا کہ ریاست اپنی سطح پر محض خشک سالی کا اعلان کرکے مرکزی امداد حاصل نہیں کرسکتی۔ مرکزی حکومت کو مقررہ ضوابط کے تحت جامع رپورٹ پیش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام مسائل پر ایوان میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے، کیونکہ ریاست کے عوام اپنے نمائندوں سے یہی توقع رکھتے ہیں۔