ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک ایس آئی آر: 1.08 کروڑ ووٹر اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں، 17 اگست کو اینومریشن کی مدت ختم

کرناٹک ایس آئی آر: 1.08 کروڑ ووٹر اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں، 17 اگست کو اینومریشن کی مدت ختم

Tue, 18 Aug 2026 11:04:48    S O News

بنگلورو، 18/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک میں خصوصی انتخابی نظرِ ثانی کے تحت گھر گھر ووٹر اندراج اور فارموں کی ڈیجیٹل کارروائی کی مقررہ مدت 17 اگست 2026 کو ختم ہوگئی۔چیف الیکٹورل آفیسر، کرناٹک کے دفتر کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں مجموعی 5,54,32,314 ووٹروں میں سے 4,46,00,369 ووٹروں کے اینومریشن فارم ڈیجیٹل طور پر درج کیے گئے، جبکہ 1,08,31,945 ووٹروں، یعنی 19.54 فیصد، کو اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں نشان زد کیا گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب شہری تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے خارج ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ تاہم، اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں نام شامل ہونا حتمی طور پر ووٹر کا نام حذف ہونا نہیں ہے بلکہ ایسے ناموں کی مزید جانچ اور تصدیق کی ضرورت ہوگی۔

سرکاری پریس نوٹ کے مطابق 1,08,31,945 اے ایس ڈی ڈی او نشان زد ووٹروں میں 15,28,985 غیر قابل سراغ یا غیر حاضر ووٹر، 65,61,607 مستقل طور پر منتقل ہونے والے ووٹر، 16,38,839 فوت شدہ قرار دیے گئے ووٹر، 7,07,792 پہلے سے اندراج شدہ ووٹر اور 3,94,722 دیگر زمروں میں شامل ووٹر ہیں۔

سب سے بڑا حصہ 65,61,607 ووٹروں کا ہے جنہیں مستقل طور پر منتقل شدہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ 15,28,985 ووٹروں کو غیر قابل سراغ یا غیر حاضر قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 16,38,839 ناموں کو فوت شدہ قرار دیا گیا ہے۔ یہی اعداد و شمار انتخابی فہرست کی شفافیت اور درستگی کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق گھر گھر اینومریشن کا عمل 30 جون سے 17 اگست 2026 تک جاری رہا، جبکہ فارموں کی ڈیجیٹل کارروائی کی مدت بھی 17 اگست کو ختم ہوگئی۔

اگر کسی ووٹر کو غلط طور پر اے ایس ڈی ڈی او کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے تو اسے درست کرانے کے لیے بوتھ لیول افسر اور انتخابی رجسٹریشن افسر کے ذریعے مقررہ سہولت دستیاب رکھی گئی تھی۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اے ایس ڈی ڈی او فہرست فراہم کی گئی ہے، جبکہ بوتھ لیول افسران کے پاس بھی یہ فہرست موجود ہے تاکہ ووٹروں کی تصدیق کی جاسکے۔

ضلع وار اعداد و شمار میں بنگلورو کے شہری علاقوں میں ڈیجیٹل اندراج کی شرح نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔ بنگلورو اربن میں 40,21,039 ووٹروں میں سے 22,94,405 فارم ڈیجیٹل کیے گئے، جبکہ 17,26,634 ووٹر، یعنی 42.94 فیصد، اے ایس ڈی ڈی او زمرے میں دکھائے گئے ہیں۔

بی بی ایم پی نارتھ میں 23,32,621 ووٹروں میں سے 12,74,517 فارم ڈیجیٹل ہوئے اور 10,58,104، یعنی 45.36 فیصد نام اے ایس ڈی ڈی او کے طور پر نشان زد ہوئے۔

بی بی ایم پی سینٹرل میں 18,89,919 ووٹروں میں سے 10,23,513 فارم ڈیجیٹل ہوئے اور 8,66,406، یعنی 45.84 فیصد ووٹر اے ایس ڈی ڈی او زمرے میں ہیں۔

بی بی ایم پی ساؤتھ میں 21,44,784 ووٹروں میں سے 10,80,740 فارم ڈیجیٹل ہوئے جبکہ 10,64,044، یعنی 49.61 فیصد ووٹر اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں شامل ہیں۔ یہ ریاست کے شہری علاقوں میں موجود بڑے پیمانے پر تصدیقی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔

ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق گلبرگہ میں 23,71,542 ووٹروں میں سے 5,23,784، یعنی 22.09 فیصد اے ایس ڈی ڈی او زمرے میں ہیں، جبکہ بلاری میں 2,23,566، یعنی 18.18 فیصد، رائچور میں 3,21,558، یعنی 18.75 فیصد اور یادگیر میں 1,88,932، یعنی 17.94 فیصد ووٹر اس زمرے میں نشان زد کیے گئے ہیں۔

بیدر میں 14,61,959 ووٹروں میں سے 2,41,933، یعنی 16.55 فیصد اے ایس ڈی ڈی او زمرے میں شامل ہیں، جبکہ دھارواڑ میں یہ تعداد 2,69,423، یعنی 16.61 فیصد ہے۔

چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ نئے اہل ووٹر فارم نمبر 6 کے ذریعے اپنا اندراج کراسکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ہندوستانی شہری جو کرناٹک میں عام طور پر مقیم ہیں اور 1 اکتوبر 2026 کو 18 سال کی عمر مکمل کرچکے ہوں گے یا مکمل کریں گے، نئے ووٹر کے طور پر اندراج کے اہل ہیں۔

بی بی ایم پی اور گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے علاقوں کے لیے 10 لاکھ فارم نمبر 6 چھاپ کر متعلقہ انتخابی رجسٹریشن افسران کو فراہم کیے گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 اگست 2026 تک اندراج، منتقلی، تصحیح اور اخراج سے متعلق مجموعی 13,32,348 درخواستیں موصول ہوئیں۔

ان میں فارم نمبر 6 کے تحت 4,28,679، فارم نمبر 6 اے کے تحت 3,710، فارم نمبر 7 کے تحت 31,554 اور فارم نمبر 8 کے تحت 8,68,405 درخواستیں شامل ہیں۔

حکام کے مطابق فارم نمبر 6، 6 اے، 7 اور 8 آن لائن بھی جمع کیے جاسکتے ہیں، جبکہ متعلقہ فارم بوتھ لیول افسران سے بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے سیاسی جماعتوں اور بوتھ لیول افسران کے پاس اے ایس ڈی ڈی او فہرست دستیاب ہونے کی اطلاع دی ہے۔ اس فہرست کی بنیاد پر ووٹروں کی جانچ اور غلط طور پر نشان زد ناموں کی اصلاح اب انتہائی اہم مرحلہ بن گئی ہے۔

خاص طور پر 1,08,31,945 اے ایس ڈی ڈی او ووٹروں کے معاملے میں یہ ضروری ہوگا کہ حقیقی طور پر منتقل ہونے والے، فوت شدہ یا غیر حاضر افراد اور غلط طور پر نشان زد کیے گئے موجودہ ووٹروں کے درمیان واضح فرق کیا جائے، تاکہ کسی اہل شہری کا حقِ رائے دہی متاثر نہ ہو۔

حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ پوسٹ ڈرافٹ انتخابی فہرست کی اشاعت سے متعلق کارروائی کے لیے ضلعی انتخابی افسران، معاون ضلعی انتخابی افسران، انتخابی رجسٹریشن افسران اور متعلقہ تکنیکی عملے کو تربیت دی گئی ہے۔

یوں 17 اگست کو اینومریشن کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد اب اصل توجہ اے ایس ڈی ڈی او فہرست کی جانچ، غلط طور پر نشان زد ووٹروں کی واپسی، نئے اہل ووٹروں کے اندراج اور حتمی انتخابی فہرست میں کسی بھی اہل شہری کا نام حذف ہونے سے روکنے پر مرکوز ہوگئی ہے۔


Share: