ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں سرکاری و عوامی املاک کے استعمال کے لیے نیا قانون؛ آر ایس ایس پر شکنجے کی قیاس آرائیاں

کرناٹک میں سرکاری و عوامی املاک کے استعمال کے لیے نیا قانون؛ آر ایس ایس پر شکنجے کی قیاس آرائیاں

Fri, 14 Aug 2026 14:37:44    S O News
کرناٹک میں سرکاری و عوامی املاک کے استعمال کے لیے نیا قانون؛ آر ایس ایس پر شکنجے کی قیاس آرائیاں

بنگلورو، 14 اگست (ایس او نیوز): کرناٹک کی ڈی کے شیوکمار حکومت نے سرکاری اور عوامی املاک کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے ایک نئے قانون کی راہ ہموار کردی ہے۔ ریاستی کابینہ نے جمعرات کو ’’کرناٹک ریگولیشن آف یوز آف گورنمنٹ پریمسز اینڈ پبلک پراپرٹی بل، 2026‘‘ کو منظوری دے دی۔ حکومت کے مطابق اس بل کا مقصد سرکاری املاک کے استعمال کے لیے واضح قانونی ضابطہ وضع کرنا اور ان کے غلط یا غیر مجاز استعمال کو روکنا ہے۔ بل کو موجودہ مانسون اجلاس میں اسمبلی میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

بل کے تحت نجی افراد، تنظیموں، انجمنوں اور سوسائٹیوں کو سرکاری عمارتوں، زمینوں اور دیگر عوامی املاک پر پروگرام، اجتماع، میٹنگ یا دوسری سرگرمی منعقد کرنے سے قبل متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔ موجودہ تجویز کے مطابق عوامی املاک کے استعمال کے لیے اجازت کا باقاعدہ قانونی نظام قائم کیا جائے گا، جبکہ املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں جرمانے اور دیگر کارروائی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

وزیر داخلہ پریانک کھرگے کی وضاحت:
کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے کابینہ کے فیصلے کے بعد کہا کہ بل کا مقصد سرکاری احاطوں اور عوامی املاک کے استعمال کے لیے ایک قانونی فریم ورک تیار کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون کسی ایک تنظیم کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ تمام نجی افراد اور تنظیموں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی کہا ہے کہ عوامی املاک پر پروگرام منعقد کرنے کے لیے پیشگی اجازت لازمی ہوگی اور یہ ضابطہ سب کے لیے یکساں ہوگا۔

آر ایس ایس کا نام کیوں زیر بحث ہے؟
حکومت کے ’’سب کے لیے یکساں‘‘ مؤقف کے باوجود اس بل کو کرناٹک کی سیاست میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق مجوزہ قانون سرکاری اسکولوں، کھیل کے میدانوں اور دیگر عوامی مقامات پر ایسی تنظیموں کی سرگرمیوں کو پیشگی اجازت سے مشروط کرے گا، جنہیں حکومت کے مطابق عوامی املاک کے استعمال کا خودکار حق حاصل نہیں ہے۔

2025 کے حکومتی حکم سے تعلق
نئے بل کا تعلق گزشتہ سال کے اسی تنازع سے بھی ہے۔ اکتوبر 2025 میں کرناٹک حکومت نے سرکاری اور امداد یافتہ تعلیمی اداروں سمیت عوامی املاک کو نجی تنظیموں کے پروگراموں کے لیے استعمال کرنے سے متعلق ضابطے جاری کیے تھے۔ ان ضابطوں کے تحت ایسی سرگرمیوں کے لیے مقامی انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا تھا۔

اس وقت آر ایس ایس کی جانب سے سرکاری املاک اور عوامی مقامات کے استعمال کا معاملہ حکومت کے ساتھ تنازع کا سبب بنا تھا۔ معاملہ بعد میں کرناٹک ہائی کورٹ تک بھی پہنچا، جہاں حکومت کے اس اقدام کو قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ اب حکومت اسی نوعیت کے ضابطوں کو ایک باقاعدہ قانون کی شکل دینے کی کوشش کررہی ہے۔

پیشگی اجازت کے بغیر پروگرام پر پابندی:
نئے بل کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ حکومت محض انتظامی حکم کے بجائے اس معاملے کو قانونی بنیاد دینا چاہتی ہے۔ اگر اسمبلی اور بعد میں قانون سازی کا عمل مکمل ہوجاتا ہے تو سرکاری زمین، عمارت یا دیگر عوامی املاک پر نجی تنظیموں کے پروگراموں کے لیے اجازت کا نظام ایک واضح قانونی فریم ورک کے تحت آجائے گا۔

اس کا دائرہ صرف سیاسی یا سماجی تنظیموں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ حکومت کے مطابق سرکاری املاک استعمال کرنے والے تمام نجی افراد، تنظیموں، انجمنوں اور سوسائٹیوں پر یکساں ضابطے لاگو ہوں گے۔


Share: