نئی دہلی ، 16/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی )وزیر اعظم مودی نے ۸۰؍ ویں یومِ آزادی پر تاریخی لال قلعے سے اپنے لگاتار ۱۳؍ ویں خطاب میں ۲۰۴۷ءتک وکست بھارت کے ہدف کو شرمندہ تعبیر کرنے، شکتی کی سَپت دھارا کے ذریعے ملک کے ترقیاتی سفر کو نئی رفتار دینے، نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے، ملک کو تمام شعبوں میں خود کفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی بنانے، مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور انوویشن کو فروغ دینے نیز توانائی کی سیکوریٹی کا ایک جامع خاکہ پیش کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس موقع پر حسب عادت اپوزیشن کو تنقیدوں کا نشانہ بھی بنایا۔ لال قلعہ کی فصیل سے ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ سب کی شرکت کے عزم کے ساتھ ملک خودکفالت کی سمت میں مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ماحول بدل چکا ہے اور ہر ہندوستانی میک ان انڈیا اور سو دیشی جیسی مہمات سے جڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم جو اس مرتبہ ’باندھنی ‘ کپڑے کے اسٹائل کی پگڑی میں تھے، نے کہا کہ ہندوستان کے پاس مستحکم اور مضبوط حکومت ہے اور اس کی مدد سے ہی ہمیں ملک کی مصنوعات کو پوری دنیا تک پہنچانا ہے۔ اسی لئے ہم نے دنیا کے ۴۰؍ ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کئے ہیں۔ ہمیں دنیا کو اچھی اور سستی مصنوعات دینی ہوں گی۔ اسی کی مدد سے ہم ۲۰۴۷ء تک وکست بھارت بن سکیں گے۔ جو کام ۵؍ دہائیوں میں نہیں ہوئے، وہ ہمیں اب ۵؍ سے ۶؍ سال میں کرنے ہوں گے۔
وزیر اعظم مودی نے عالمی سطح پر ہندوستان کا دبدبہ قائم کرنے کے لئے اہل وطن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے چیلنج دیا کہ اگلے ایک دہائی میں کیوں نہ فارچیون ۵۰۰؍میں ۵۰؍ ہندوستانی کمپنیاں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ٹاپ پانچ بینکوں میں سے ایک ہندوستان کا ہونا چا ہئے۔ ملک کی فارما کی سمت میں ہم نے بہت کام کیا ہے۔ لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا کی پانچ بڑی فارما کمپنیوں میں ہندوستان کی بھی ایک یا دو فارما کمپنیاں ہوں۔ قانون کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں، ریٹنگ ایجنسیوں میں بھی عالمی قیادت ہندوستان کے ہاتھ میں ہونی چا ہئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے ملک میں مضبوط سیاسی، سماجی و معاشی بنیاد کھڑی کی ہے اور سمت بھی طے ہو چکی ہے لیکن کاموں کو تیزی سے نمٹانے کے لئےہمیں اپنا ورک کلچر اور سوچ بدلنےکی ضرورت ہے۔ اس دوران وزیراعظم مودی نے مردم شماری کے عمل کو ملک کی ترقی اور پیش رفت کے لئےانتہائی اہم قرار دیتے ہوئے نوجوانوں سے اس میں تعاون کی اپیل کی ہے اور ان سے موبائل ایپ کے ذریعے خود شماری کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارے اینومریٹرس کا کافی وقت اور توانائی کی بچت ہو گی۔ متعلقہ خبریں صفحہ ۴؍ پر ملاحظہ کریں
وزیر اعظم مودی نے سات شعبوں میں نئی رفتار اور نئے طریقوں سے کام کرتے ہوئے ملک کو دنیا میں سب سے آگے لے جانے کا ہدف رکھتے ہوئے اسے سَپت دھارا کا نام دیا۔ اس میں مینوفیکچرنگ، زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، ٹیکنالوجی اور اختراع، گتی شکتی، دفاعی طاقت، گرین اکنامی و بلیو اکنامی اور سافٹ پاور شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اصلاحات کی راہ پر چل چکے ہیں۔ اب ہمیں اپنے روایتی نظام میں تبدیلی لانی ہوگی۔
ایک کروڑ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی تربیت ، مسابقتی امتحانات کیلئے پورے ملک میں مفت آن لائن کوچنگ نیٹ ورک ، نشہ مکت بھارت کیلئے ۱۰۰؍ ہفتوں کی مہم کا آغاز، ۲۰۳۶ء کے اولمپکس میں زیادہ مقابلوں میں ہندوستان کی شرکت کے لئے قومی سطح پر صلاحیتوں کی تلاش جیسے اقدامات۔ تعلیم، ہنر مندی، اسٹارٹ اپ اور نئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ہو رہی توسیع سے ملک کے نوجوانوں کیلئے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے پر منعقدہ تقریب کے آغاز اور اختتام پر پہلی بار قومی گیت وندے ماترم گایا گیا۔ وزیر اعظم مودی کے لال قلعے کی فصیل سے خطاب سے پہلے مکمل قومی گیت گایا گیا۔ مودی کے خطاب کے اختتام پر بھی قومی گیت گایا گیا۔ اس کے بعد قومی ترانہ (جن گن من) گایاگیا۔ اس موقع پر فضائیہ کے دو ہیلی کاپٹر وہاں سے گزرے۔ ایک ہیلی کاپٹر پھولوں کی بارش کر رہا تھا جبکہ دوسرے ہیلی کاپٹر پر وندے ماترم لکھا ہوا پرچم لہرا رہا تھا۔