کاروار، 22 جولائی (ایس او نیوز)انڈین نیوی نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہوئے بدھ کے روز جدید اینٹی سب میرین وارفیئر شَیلو واٹر کرافٹ (ASW-SWC) "آئی این ایس مالون" کو کاروار کے کدمبا نیول بیس پر باضابطہ طور پر بحری بیڑے میں شامل کر لیا۔ اس جنگی جہاز کی شمولیت کو ملک کے مقامی جہاز سازی پروگرام اور بحری جدیدکاری کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کمیشننگ تقریب میں بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے دفاعی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کے درمیان قریبی اشتراک ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی دفاعی صلاحیت فراہم کرتی ہے، لیکن کسی بھی جنگی جہاز کی حقیقی طاقت اس کے عملے کی پیشہ ورانہ مہارت، قائدانہ صلاحیت اور اجتماعی ٹیم ورک میں مضمر ہوتی ہے۔

انہوں نے دفاعی شعبے میں مقامی تحقیق، پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر تکنیکی ترقی میں تاخیر ہو جائے تو اس کی افادیت بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے پروجیکٹ سی برڈ کے تحت قائم کاروار نیول بیس کو عالمی معیار کی جدید بحری تنصیب قرار دیا، جو بھارت کی ساحلی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
اس موقع پر کمانڈر پروین کمار تیواری نے آئی این ایس مالون کے پہلے کمانڈنگ آفیسر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ تقریب میں مغربی بحری کمان کے فلیگ آفیسر کمانڈنگ اِن چیف وائس ایڈمرل سنجے وتساین، وائس ایڈمرل سنجے سادھو، ریئر ایڈمرل وکرم مینن اور کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر جوش وی. سمیت متعدد اعلیٰ فوجی اور بحری حکام شریک تھے۔
سرکاری معلومات کے مطابق، آئی این ایس مالون پروجیکٹ سی برڈ کے تحت قائم کاروار نیول بیس پر باضابطہ طور پر کمیشن کیا جانے والا بھارتی بحریہ کا پہلا جنگی جہاز ہے۔ کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ کی جانب سے ملک کے مقامی جہاز سازی پروگرام کے تحت تیار کیا گیا یہ جنگی جہاز ساحلی اور گہرے سمندری علاقوں میں دشمن کی آبدوزوں کا سراغ لگانے، ان کا تعاقب کرنے اور انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تقریباً 80 میٹر طویل اور 1,100 ٹن وزنی یہ جنگی جہاز جدید آبدوز شکن راکٹوں، اعلیٰ درجے کے سونار سسٹم اور جدید ریڈار ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس سے بھارتی بحریہ کی آبدوز شکن جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔