وجے نگر ، 6/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ملک میں حکمرانوں کا دور ختم ہوچکا ہے اور جمہوری نظام قائم ہے، اس لیے انہیں ’ریاست کا حاکم‘ کہنے کے بجائے ’عوام کا خادم‘ کہا جائے تو انہیں زیادہ خوشی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوامی خدمت کو خدا کی خدمت سمجھتے ہیں اور حکومت کا بنیادی مقصد انتظامیہ کو عوام کے قریب لانا ہے۔
وہ ہفتہ کو وجے نگر ضلع کے کودلیگی شہر میں نئی قائم کردہ ’پرجا سیوا‘ محکمہ کی مہم کا افتتاح کرتے ہوئے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام نے 136 ارکان اسمبلی کو منتخب کرکے حکومت کو ملک کے لیے ایک نئی مثال قائم کرنے کا موقع دیا ہے۔ اب عوام کو اپنے معمولی کاموں کے لیے سرکاری دفاتر اور افسران کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت خود عوام کی دہلیز تک پہنچ کر ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کے مقصد سے یہ مہم شروع کررہی ہے۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ودھان سودھا، ڈپٹی کمشنر کے دفتر یا تعلقہ دفاتر میں بیٹھ کر عوام سے دور رہتے ہوئے انتظامیہ چلانا مناسب نہیں۔ ہر شہری کے لیے وزیر، رکن اسمبلی یا اعلیٰ افسر سے براہ راست ملاقات کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے ’پرجا سیوا‘ محکمہ عوام کی شکایات سن کر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے موقع پر ہی مناسب حل فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک سرکاری محکمہ نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے والی عوام دوست انتظامی نظام کی بنیاد بنے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام کو ارکان اسمبلی، وزرا یا تعلقہ سطح کے افسران کو تلاش کرتے ہوئے دفاتر کے چکر نہیں لگانے چاہئیں۔ افسران کو خود عوام کے درمیان پہنچ کر ان کی شکایات سننی اور حل کرنی چاہئیں۔ اسی مقصد سے ’پرجا سیوا‘ محکمہ قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ نظام ریاست کے تمام 224 اسمبلی حلقوں میں بلا لحاظ مذہب، ذات یا سیاسی وابستگی نافذ کیا جائے گا۔ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر ماہ کے پہلے اور تیسرے ہفتہ کو عوامی نمائندے اور افسران عوام کے درمیان موجود رہ کر ان کے مسائل سنیں گے۔ وزرا تعلقہ اور ہوبلی سطح پر جبکہ ارکان اسمبلی گرام پنچایت کی سطح پر اس مہم کی قیادت کریں گے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ اگر کسی علاقے میں رکن اسمبلی موجود نہ ہوں تو افسران خود گرام پنچایت مراکز پر پہنچیں، چھوٹی سطح کی نشستیں منعقد کریں، عوام سے درخواستیں وصول کریں اور ان کے مسائل حل کریں۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ عوامی درخواست وصول کرکے صرف رسید دینا کافی نہیں، بلکہ اس وقت تک منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک درخواست گزار کو مناسب حل فراہم نہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اسکیمیں اور سہولیات ہر مستحق فرد تک پہنچانا بنیادی مقصد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنشن، اراضی کے تنازعات، سرکاری سہولیات، کھاتہ منتقلی، ضمانتی اسکیموں اور مکان و رہائشی پلاٹ سے متعلق درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لے کر حل فراہم کیا جائے گا۔ غریبوں اور کمزور طبقات کو تحصیلدار، اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی سطح کے معاملات میں قانونی جدوجہد کے لیے مفت وکیل اور قانونی امداد فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی درخواست کو مسترد کیا جائے تو اس کی وجہ واضح طور پر بتائی جائے گی اور درخواست گزار کو مکمل حل ملنے تک حکومت اس کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نظریات کے مطابق مساوی احترام ملنا چاہیے۔ پانچ ضمانتی اسکیموں پر تنقید کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو حکومت نے ان اسکیموں کو عملی طور پر نافذ کرکے جواب دیا ہے اور ’پرجا سیوا‘ بھی ملک کے لیے ایک مثالی نظام ثابت ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے یومِ اساتذہ کے موقع پر کہا کہ ملک کی ترقی میں فوجیوں، مزدوروں اور کسانوں کی طرح اساتذہ کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ مستقبل میں اساتذہ کے نام کے ساتھ ’ٹیچر‘ کا اعزازی لفظ استعمال کرنے کی روایت قائم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں ساڑھے 4 لاکھ سے زیادہ اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جن ماں نے ہمیں جنم دیا اور جن اساتذہ نے ہمیں علم کی روشنی دکھائی، دونوں ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو ڈاکٹروں اور انجینئروں کی طرح مناسب احترام دینے کے لیے اس سلسلے میں کابینہ میں غور کرکے فیصلہ کیا جائے گا۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ تعلیم میں معاشرے کو تبدیل کرنے کی طاقت موجود ہے۔ سرکاری اور دیہی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے غریب بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے 15 فیصد دیہی ریزرویشن کے علاوہ سرکاری اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 7.5 فیصد داخلی ریزرویشن فراہم کرنے کی تجویز پر حکومت غور کررہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر شہری کی جائیداد کو مناسب تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ’بھومی گارنٹی‘ اسکیم کے تحت کودلیگی تعلقہ میں پہلے ہی 25,276 افراد کو حقِ ملکیت کے کاغذات فراہم کیے جاچکے ہیں۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ جائیدادوں کی پیمائش کرکے مالکان کی تصاویر کے ساتھ برقی کھاتہ دستاویزات براہِ راست ان کے گھروں تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ دیہات میں ثقافتی، کھیل اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ’بھارت جوڑو یوتھ سنگھ‘ قائم کیے جارہے ہیں۔ ہر گرام پنچایت میں ضمانتی اسکیموں کی کمیٹیاں تشکیل دے کر عوام کو انصاف فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
ریاست میں قحط زدہ تعلقوں کے اعلان کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کے رہنما اصولوں اور مقررہ ضوابط کے مطابق مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ ریاست میں قحط کی صورتحال سے متعلق دوسرے مرحلے کی رپورٹ جلد دستیاب ہوگی، جبکہ 50 سے زائد تعلقوں میں سروے کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ضوابط کے مطابق 21 دن کی بارش کی مقدار اور دیگر مقررہ معیار کا جائزہ لینے کے بعد رواں ماہ کے اختتام تک ان تمام تعلقوں کو قحط زدہ قرار دیا جائے گا جہاں قلت کی صورتحال پائی جاتی ہے۔
کوڈلیگی کے رکن اسمبلی این ٹی سرینواس نائک نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے شدید بارش کی کمی اور خشک سالی کے باعث کودلیگی اور کوٹور تعلقوں کو فوری طور پر قحط زدہ قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سال کی شدید خشک سالی سے کسان، مزدور اور عام لوگ سخت مشکلات کا شکار ہیں اور زندگی کے بارے میں ان کی امیدیں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کسان تنظیمیں، کنڑا نواز تنظیمیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما متحد ہوکر دونوں تعلقوں کو قحط زدہ قرار دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ، وزرا اور اعلیٰ افسران سے اپیل کی کہ کسانوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے فوری مالی امداد اور قحط راحت کے کام شروع کیے جائیں۔
رکن اسمبلی نے ’پرجا سیوا‘ مہم کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر سیاسی اور بلا لحاظ ذات و مذہب عوام، بے روزگار نوجوانوں، اسکول و کالجوں، خود امدادی تنظیموں اور وظیفہ یاب افراد کی شکایات کو مقررہ مدت میں حل کرنے کی کوشش ایک تاریخی قدم ہے۔
وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر جی سی چندرشیکھر نے کہا کہ ’پرجا سیوا‘ محکمہ اس مقصد سے قائم کیا گیا ہے کہ عام شہریوں اور غریب عوام کو سرکاری خدمات اور شکایات کے حل کے لیے مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
کوڈلیگی میں ’پرجا سیوا‘ مہم کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو ان کے گھروں یا قریبی مراکز پر ہی آسانی سے سرکاری خدمات فراہم کرنے کا انتظام کیا جارہا ہے۔ عوام کی درخواستیں اور شکایات متعلقہ محکموں، بالخصوص صحت، تعلیم اور محصولات کے محکموں تک فوری پہنچانے اور مقررہ مدت میں حل یقینی بنانے کے لیے نگران افسران کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ میں جواب دہی اور شفافیت کو یقینی بنانا اس نئے نظام کی اہم خصوصیت ہوگی۔ غریبوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے اور کسی کو ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
کوڈلیگی میں ’پرجا سیوا‘ مہم کے دوران مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے اسٹال قائم کیے گئے، جہاں عوام کی درخواستیں وصول کرنے کے ساتھ سرکاری منصوبوں اور سہولیات کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔
پروگرام میں کرناٹک اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منکال ویدیا، مزرعی، ماہی گیری و اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے وزیر اور وجے نگر ضلع کے نگران وزیر کے ایس بسونتپا، ریاستی ضمانتی اسکیموں کے نفاذی ادارے کے نائب صدر پی ٹی پرمیشور نائک، بَلارِی لوک سبھا رکن ای توکارام، داونگیرے لوک سبھا رکن ڈاکٹر پربھا ملکارجن، وجے نگر کے رکن اسمبلی ایچ آر گویپا، ہگری بومناہلی کے رکن اسمبلی کے نیم راج نائک، ہڈگلی کے رکن اسمبلی ایل کرشنانائک، ہراپن ہلی کی رکن اسمبلی ایم پی لتا ملکارجن، قانون ساز کونسل کے رکن وائی ایم ستیش، ضلع ضمانتی اسکیموں کے نفاذی ادارے کے صدر کوری شیومورتی، چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش، توانائی محکمہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری گورو گپتا، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ایل کے عتیق، محکمہ عملہ و انتظامی اصلاحات کے پرنسپل سکریٹری پنکج کمار پانڈے، ضلع نگران سکریٹری ڈاکٹر کے جی جگدیش، محکمہ مالیات کے سکریٹری ڈاکٹر ریجو ایم ٹی اور ابھیرام جی شنکر، ریجنل کمشنر زہرہ نسیم، پولیس انسپکٹر جنرل ڈاکٹر ہرشا، ڈپٹی کمشنر کویتا منیکیری، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو افسر نونگ جائی محمد علی اکرم شاہ، ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ایس جانھوی سمیت دیگر افسران موجود تھے۔