بنگلورو ، 7/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ سدارامیا نے ریاستی سیاست میں ایک نئی سوچ کو جنم دیا اور ’اہندا‘ تحریک کے ذریعے طویل عرصے سے نظرانداز کیے گئے طبقات اور بے آواز برادریوں کو سماجی و معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔وہ اتوار کو بنگلورو کے پیلس گراؤنڈ میں کرناٹک ریاستی پسماندہ ذاتوں کے اتحاد کی جانب سے منعقدہ اتحاد کے سلور جوبلی اور پسماندہ طبقات کی بیداری کانفرنس کے افتتاح اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ پسماندہ طبقات کا یہ اتحاد گزشتہ 25 برسوں سے محروم اور پسماندہ برادریوں کو آواز فراہم کرنے، ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کو مضبوط بنانے اور حکومت میں انہیں حاصل ہونے والی سہولتوں اور نمائندگی کے لیے مسلسل کام کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اہندا‘ تحریک نے نہ صرف سدارامیا کی سیاسی جدوجہد بلکہ مجموعی طور پر پسماندہ طبقات کی سیاست کو بھی مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سدارامیا ریاست کی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھنے والے رہنما ہیں جنہوں نے بسونا کے نظریات اور اصولوں سے متاثر ہوکر اور بھارت رتن ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے تصورات کو اپناتے ہوئے کام کیا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سدارامیا کی سیاست جدوجہد کی سیاست ہے، جو غریبوں اور بے آواز افراد کے حقوق کے لیے کی گئی جدوجہد سے عبارت ہے۔ کوئی بھی ان پر تنقید کرسکتا ہے، لیکن ایک نظریے پر قائم رہتے ہوئے عوام تک ان کے حقوق پہنچانے کے لیے ان کی وابستگی قابل ذکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں صدیوں قبل قائم کیے گئے طبقاتی نظام نے معاشرے میں مختلف ذاتوں کے درمیان تفریق پیدا کی۔ اس نظام کے خلاف کئی رہنماؤں نے جدوجہد کی، جن میں سابق وزیر اعلیٰ ڈی دیوراج ارسو اور ہاوانور بھی شامل ہیں۔ سدارامیا نے پسماندہ طبقات کو آئین کے تحت حاصل مواقع اور حقوق فراہم کرنے کے لیے کام کیا۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ مشکلات کا سامنا کرنے والی برادریوں کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنانے کے مقصد سے سدارامیا کی قیادت میں ملک میں پہلی مرتبہ ضمانتی اسکیمیں متعارف کرائی گئیں اور انہیں مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا۔ ابتدا میں ان اسکیموں پر شدید تنقید کی گئی، لیکن بعد میں انہی اسکیموں کو دوسرے لوگوں اور دیگر ریاستوں نے بھی اپنانا شروع کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ضمانتی اسکیموں کے تصور کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں ذات پات پر مبنی فرسودہ نظام کا خاتمہ نہیں ہوگا، حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ طبقاتی تفریق نے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کررکھا ہے؛ ایک طرف وسائل اور سہولتوں سے مالا مال افراد ہیں تو دوسری طرف مزدور، زرعی مزدور اور غریب طبقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اس طرح تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر نے آزادی سے قبل ہی ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی مخالفت کی تھی اور ہر شہری کے لیے مساوات اور انصاف کی وکالت کی تھی۔ اسی نظریے کے تحت ملک سے عدم مساوات کا خاتمہ ضروری ہے اور 21ویں صدی کا ہندوستان عدم مساوات پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت حاصل حقوق کو یقینی بنانے کی کوشش مسلسل جاری رہنی چاہیے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر تمام ذاتوں اور برادریوں کے لوگ متحد ہوکر کام کریں تو ریاست کا اقتدار مستقل طور پر پسماندہ طبقات کے ہاتھوں میں رہ سکتا ہے۔ انہوں نے اتر پردیش اور بہار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ملائم سنگھ یادو اور لالو پرساد یادو جیسے رہنماؤں نے جدوجہد کی سیاست کے ذریعے پسماندہ طبقات کو منظم کیا اور اقتدار حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی تنظیمی کوششوں کو کرناٹک میں بھی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ سدارامیا کے اقتدار سے باہر ہونے کے ساتھ پسماندہ طبقات کی جدوجہد ختم ہوجائے گی۔ اگر ایسا تصور کیا جائے تو ان برادریوں کی تنظیموں کو آگے آکر جدوجہد کی قیادت کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ پسماندہ طبقات کو سماجی اور تعلیمی انصاف ملنا ضروری ہے۔ ان برادریوں کے بچے انجینئر، ڈاکٹر اور جامعات میں پروفیسر بنیں، اس مقصد کے حصول کے لیے تنظیموں کو اپنی جدوجہد مزید مضبوط بنانی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سدارامیا سے مختلف سطح پر اسی قد و قامت کا متبادل رہنما حاصل کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے تمام پسماندہ طبقات سے اپیل کی کہ سدارامیا کی قیادت میں متحد ہوکر جدوجہد جاری رکھیں اور مساوات کے عزم کو مضبوط بنائیں۔
تقریب میں وزرا سنتوش لاڈ، پٹّارنگا شیٹی، بائرتی سریش، مدھو بنگارپا، ڈاکٹر اجے سنگھ، ریاستی ضمانتی اسکیموں کے نفاذی ادارے کے صدر ایچ ایم ریونا، ارکان اسمبلی بسوراج شیوانّاور، بھیم سین چمّنا کٹی، امیش میٹی، قانون ساز کونسل کے ارکان ایم آر سیتارام اور ملوالی شیوانّا سمیت دیگر موجود تھے۔