نئی دہلی ، یکم ستمبر (ایس او نیوز / ایجنسی)ستمبر کا آغاز عام لوگوں کے لیے کئی بڑی تبدیلیاں لے کر آیا ہے۔ یکم ستمبر 2026 سے ایل پی جی سلنڈر، کمرشل گیس، کاروں کی قیمتوں، دودھ اور آٹو-ٹیکسی کے کرایوں سے متعلق نئی تبدیلیاں نافذ ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سفر کرنے والوں اور گولڈ-سلور ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے بھی کچھ قوانین تبدیل ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ تبدیلیاں براہ راست عوام کے اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہیں، جبکہ کچھ تبدیلیوں سے مسافروں اور عام صارفین کو راحت ملے گی۔ آئیے جانتے ہیں کہ یکم ستمبر سے آپ کی روزمرہ زندگی پر کیا اثر پڑنے والا ہے۔
گھریلو ایل پی جی کنکشن کی ’ای-کے وائی سی‘ کرانے کی آخری تاریخ 31 اگست 2026 مقرر کی گئی تھی۔ ایسے میں جن صارفین نے مقررہ وقت تک ’ای-کے وائی سی‘ مکمل نہیں کی ہے، انہیں اب ایل پی جی سے متعلق کچھ خدمات میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ ای-کے وائی سی نہ ہونے کی صورت میں سلنڈر کی بکنگ متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اہل صارفین کی ایل پی جی سبسڈی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر آپ کی ای-کے وائی سی ابھی تک نہیں ہوئی ہے تو جلد از جلد اپنی گیس کمپنی سے رابطہ کرکے یہ عمل مکمل کرنا بہتر ہوگا۔
ستمبر کے پہلے دن ہی کمرشیل ’ایل پی جی‘ سلنڈر استعمال کرنے والے کاروباریوں کو جھٹکا لگا ہے۔ تیل کمپنیوں نے 19 کلو والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 9.50 کا اضافہ کر دیا ہے، اور نئی قیمت یکم ستمبر سے ہی نافذ ہو گئی ہے۔ انڈین آئل کے مطابق دہلی میں 19 کلو کے کمرشیل سلنڈر کی قیمت 2747.50 ہو گئی ہے۔ جب کہ اس سے قبل 2738 قیمت ہوا کرتی تھی۔ حالانکہ گھریلو رسوئی گیس صارفین کو فی الحال راحت ملی ہے۔ 14.2 کلو والے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ 5 کلو والے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 349.50 روپے اور ایکسٹرا لائٹ سلنڈر کی قیمت 339 روپے برقرار ہے۔
اگر آپ ستمبر میں نئی کار خریدنے کی تیاری کر رہے ہیں تو بجٹ بڑھ سکتا ہے۔ ٹاٹا موٹرس اور ہنڈائی نے اپنی گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔ ٹاٹا موٹرس نے اپنی کاروں اور ’ایس یو وی‘ کی مختلف کاروں پر تقریباً 25000 روپے تک کا اضافہ کیا ہے۔ وہیں ہنڈائی نے بھی اپنی کاروں کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کمپنیوں کی نئی کاریں خریدنے والوں کو ماڈل اور ویریئنٹ کے حساب سے پہلے کی بہ نسبت زیادہ رقم خرچ کرنی پڑے گی۔
ممبئی والوں کے لیے ستمبر کا آغاز مہنگائی کے لحاظ سے راحت بھرا نہیں رہا ہے۔ شہر میں تبیلے کے دودھ کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ جو دودھ پہلے 93 روپے فی لیٹر مل رہا تھا، اب اس کی قیمت بڑھ کر 102 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ممبئی میں آٹو اور ٹیکسی سے سفر کرنا بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ ٹیکسی کے کرائے میں 2 روپے فی کلومیٹر، جبکہ آٹو کے کرائے میں ایک روپے فی کلومیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ستمبر کا آغاز راحت لے کر آیا ہے۔ یکم ستمبر سے ہوائی اڈے کے امیگریشن کاؤنٹر پر بورڈنگ پاس پر فزیکل اسٹیمپ لگوانے کا پرانا طریقہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اب مسافر امیگریشن کے دوران اپنے موبائل پر الیکٹرانک بورڈنگ پاس یا اس کی پرنٹ شدہ کاپی دکھا کر کارروائی مکمل کر سکیں گے۔ اس سے مسافروں کو بورڈنگ پاس پر الگ سے مہر لگوانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور ہوائی اڈے پر ایک اضافی رسمی کارروائی کم ہو جائے گی۔
گولڈ اور سلور ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے بھی یکم ستمبر سے نیا اصول نافذ ہو گیا ہے۔ سیبی نے ’ای ٹی ایف‘ کے کاروبار میں قیمت طے کرنے سے متعلق قواعد میں تبدیلی کی ہے۔ نئے اصول و ضوابط کے تحت ای ٹی ایف کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے لیے گزشتہ کاروباری دن کے آخری 30 منٹ کے ٹریڈنگ والیوم کی اوسط قیمت کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اس تبدیلی کا مقصد ای ٹی ایف کی قیمت کو بازار کی موجودہ صورتحال کے زیادہ قریب رکھنا ہے۔ اس لیے گولڈ اور سلور ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے نئے اصول کو سمجھنا ضروری ہے۔