بنگلورو، یکم ستمبر (ایس او نیوز / ایجنسی) ریاستی چیف سکریٹری شالنی رجنیش نے بتایا ہے کہ کرناٹک حکومت نے عوامی شکایات کے فوری ازالے، سرکاری خدمات کی سہولت اور انتظامیہ کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے مقصد سے ’پرجا سیوا ابھیان‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کا باقاعدہ آغاز 5 ستمبر کو وجئے نگر ضلع کے کڈلیگی ہوبلی سے ہوگا۔
ریاستی حکومت کے مطابق پرجا سیوا ابھیان کے ذریعے عوام کو معمولی مسائل اور سرکاری خدمات سے متعلق شکایات کے لیے دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ مختلف محکموں سے متعلق شکایات براہِ راست سنی جائیں گی اور ممکنہ حد تک موقع پر یا مقررہ مدت کے اندر ان کا ازالہ کیا جائے گا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد براہِ راست عوامی خدمت، فوری شکایتی ازالہ، شفافیت اور انتظامی جواب دہی کو مضبوط بنانا ہے۔ حکومت نے عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کو کم کرتے ہوئے سرکاری نظام کو عوام کے قریب لانے کے لیے اس پروگرام کو ایک مربوط انتظامی پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا ہے۔
حکومت کے مطابق ریاست بھر میں ہر ہفتے ہفتہ کے روز تعلقہ اور ہوبلی سطح پر پرجا سیوا ابھیان کی نشستیں منعقد کی جائیں گی۔ ہر ماہ کے پہلے اور تیسرے ہفتہ کو ضلع نگران وزیر کی صدارت میں تعلقہ مرکز پر اجلاس ہوگا، جبکہ دوسرے اور چوتھے ہفتہ کو مقامی رکن اسمبلی کی صدارت میں تعلقہ یا ہوبلی سطح پر عوامی شکایات کی سماعت کی جائے گی۔
آئندہ 3 تا 4 ماہ کے دوران ریاست کے تمام تعلقہ اور ہوبلی سطح کے اجلاسوں کے لیے باقاعدہ نظام الاوقات تیار کیا گیا ہے۔ اگر کسی حلقے میں ضلع نگران وزیر کی صدارت میں تعلقہ سطح کا اجلاس منعقد ہوگا تو اسی روز الگ سے ہوبلی سطح پر رکن اسمبلی کا اجلاس منعقد نہیں کیا جائے گا۔ متعلقہ رکن اسمبلی ضلع نگران وزیر کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ان اجلاسوں میں متعلقہ ضلع، تعلقہ اور دیگر محکموں کے افسران موجود رہیں گے۔ سابق ضلع پنچایت، تعلقہ پنچایت، گرام پنچایت اور شہری مقامی اداروں کے ارکان کے ساتھ مقامی قائدین کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
پرجا سیوا ابھیان کے اجلاسوں کی اطلاع عوام کو کم از کم 15 دن قبل گھر گھر پمفلٹ تقسیم کرکے دی جائے گی۔ ان پمفلٹس میں درخواست فارم اور درکار دستاویزات کی فہرست بھی شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ متعلقہ علاقوں کے عوام کو اجلاس کی تاریخ، وقت، مقام اور صدارت کرنے والے عوامی نمائندے کی تفصیلات مصنوعی ذہانت پر مبنی رابطہ مرکز کے ذریعے فون پر فراہم کی جائیں گی۔
عوام کو اجلاس سے قبل ہی گرام ون مراکز پر اپنی درخواستیں اور شکایات جمع کرانے کی سہولت حاصل ہوگی۔ اجلاس کے مقام پر بھی گرام ون مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، پرنٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت کے ذریعے شہری براہِ راست آن لائن درخواستیں اور شکایات درج کراسکیں گے۔
پرجا سیوا ابھیان کے اجلاسوں میں شکایات کو دو الگ زمروں میں نمٹایا جائے گا۔ پہلی قطار میں نئی شکایات شامل ہوں گی، جبکہ دوسری قطار میں وہ شکایات شامل ہوں گی جو پہلے ہی سرکاری شکایتی نظام میں درج ہونے کے باوجود حل نہیں ہوئیں یا جن کا 21 دن گزرنے کے بعد بھی اطمینان بخش ازالہ نہیں کیا گیا۔
ایسی شکایات کے لیے شہریوں کو اپنی سابقہ درخواست یا شکایت کا متعلقہ حوالہ نمبر پیش کرنا ہوگا۔ وقت کی کمی کی صورت میں زیر التوا شکایات رکھنے والے شہریوں کو اجلاس کی صدارت کرنے والے عوامی نمائندے سے براہِ راست اپنی بات رکھنے میں ترجیح دی جائے گی۔
حکومت کے مطابق مستحق افراد کو بعض سرکاری منصوبوں کے تحت منظوری کے خطوط اجلاس کے دوران ہی فراہم کیے جاسکیں گے۔ پہلے سے حل کی گئی شکایات کے سلسلے میں بھی تصدیقی یا منظوری کے خطوط موقع پر دیے جاسکیں گے۔
درخواستوں اور شکایات کی پیش رفت جاننے کے لیے حقیقی وقت پر مبنی معلوماتی نظام بھی قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے درخواست گزار اپنی درخواست یا شکایت کی موجودہ صورتِ حال معلوم کرسکیں گے۔
اجلاس کے مقامات پر مختلف سرکاری محکموں کے معلوماتی مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں عوام کو متعلقہ سرکاری منصوبوں کی اہلیت، فوائد اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بہتر انتظامی طریقۂ کار کی نمائش بھی کی جائے گی۔ اجلاس میں شریک عوام کے لیے پینے کے پانی اور بنیادی طبی سہولیات کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
ریاست کے مختلف محکموں کی خدمات اور سرکاری منصوبوں سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے حکومت نے مربوط عوامی شکایتی ازالہ نظام قائم کیا ہے۔ اس نظام کا مقصد شہریوں کو مختلف دفاتر کے چکر لگانے سے نجات دلانا اور شکایات کو ایک مرکزی نظام کے ذریعے متعلقہ محکموں تک پہنچانا ہے۔
عوام اپنی شکایات 1902 پر درج کراسکتے ہیں یا حکومت کے آن لائن شکایتی نظام سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے شکایات کو مختلف سطحوں پر متعلقہ افسران تک پہنچانے اور ان کے ازالے کی نگرانی کا نظام بھی تیار کیا گیا ہے۔
پرجا سیوا ابھیان کے اجلاسوں میں موصول ہونے والی تمام درخواستوں اور شکایات کا ہر بدھ کو تین سطحی جائزہ لیا جائے گا۔
صبح 9 بجے سے 11 بجے تک تعلقہ سطح پر تحصیلدار اور تعلقہ پنچایت کے انتظامی افسر درخواستوں اور شکایات کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ جن معاملات کا تعلقہ سطح پر ازالہ نہ ہوسکے، انہیں ای میل نظام کے ذریعے ذیلی ڈویژن کے افسران کو بھیجا جائے گا۔
صبح 11 بجے سے دوپہر 1 بجے تک ذیلی ڈویژن سطح کا جائزہ ہوگا، جہاں اسسٹنٹ کمشنر تعلقہ سطح سے موصول ہونے والی تفصیلات کا جائزہ لیں گے اور زیر التوا معاملات کو ضلع سطح پر بھیجیں گے۔
دوپہر 3 بجے سے شام 5 بجے تک ضلع سطح پر ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں آخری مرحلے کا جائزہ لیا جائے گا۔
ضرورت پڑنے پر متعلقہ ضلع افسران کو اجلاس میں براہِ راست شرکت کی ہدایت دی جاسکے گی، جبکہ تعلقہ اور ذیلی ڈویژن سطح کے افسران ویڈیو یا صوتی کانفرنس کے ذریعے شریک ہوسکیں گے۔
ہر سطح پر شکایت کے ازالے سے غیر مطمئن شہری متعلقہ افسر کے سامنے براہِ راست حاضر ہوکر اپنی شکایت پیش کرسکیں گے۔
مقررہ مدت میں حل نہ ہونے والی درخواستوں اور شکایات کو خودکار طریقے سے متعلقہ محکمے کے اعلیٰ افسران تک منتقل کرنے کا نظام بھی نافذ کیا جائے گا۔ ہر ضلع کے لیے ایک سرکاری سکریٹری کو ضلع نگران سکریٹری مقرر کیا گیا ہے، جو ہر ماہ کے پہلے اور تیسرے جمعہ کو ضلع کا دورہ کرکے ہفتہ کو ہونے والے اجلاس کی تیاری اور نگرانی کریں گے۔
ضلع سطح پر حل نہ ہونے والے معاملات کو متعلقہ محکموں کے ریاستی سطح کے سکریٹریوں کے ساتھ زیر غور لایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ضلع نگران سکریٹریوں کا الگ معلوماتی نظام بھی قائم کیا گیا ہے، جس کا جائزہ چیف سکریٹری کی زیر صدارت ہونے والے سکریٹریوں کے ماہانہ اجلاس میں لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت جائزہ اجلاسوں میں بھی اضلاع میں زیر التوا درخواستوں اور شکایات کے ازالے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ضلع نگران وزراء ان اجلاسوں میں ضلع، ہوبلی، تعلقہ اور محکمہ وار زیر التوا مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے اور ضرورت پڑنے پر سرکاری پالیسیوں یا منصوبوں میں اصلاحات کے لیے تجاویز پیش کریں گے۔
ریاستی چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش کے مطابق پرجا سیوا ابھیان کا مقصد انتظامیہ کو عوام کے قریب لانا، شکایات کو براہِ راست سننا، سرکاری خدمات کی فوری فراہمی، درخواستوں کے بروقت ازالے، افسران کی جواب دہی اور کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے کر اپنی شکایات کے ازالے کے ساتھ ساتھ سرکاری منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور حکومت کو اپنی تجاویز بھی پیش کریں۔