نیویارک/نئی دہلی ،یکم ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی ایک رپورٹ میں وارننگ دی گئی ہے کہ سمندر کی سطح بلند ہونے سے کولکاتہ اور ممبئی میں رہ رہے لاکھوں افراد بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ پیر (31 اگست) کو جاری رپورٹ میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہونے کے اثرات کے حوالے سے کئی سنگین انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔ گلوبل وارمنگ سے گلیشیئر اور برف کی تہیں پگھلتی ہیں اور پانی گرم ہوتا ہے، جس سے املاک، لوگوں اور یہاں تک کہ ثقافتوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔
پیسیفک آئی لینڈز فورم لیڈرز کی 55ویں میٹنگ میں اقوام متحدہ کی نائب سکریٹری جنرل امینہ محمد نے جو رپورٹ جاری کی اس کے مطابق 2024 میں سمندر کی سطح میں سالانہ اضافہ اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور یہ تقریباً 6 ملی میٹر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس میٹنگ کی میزبانی پلاؤ کر رہا ہے، جو بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل ایک ملک ہے۔ سمندر کی سطح بلند ہونے سے اس کے کئی جزائر بڑی حد تک ڈوب سکتے ہیں۔ یہ میٹنگ اسی سنگین خطرے کا انکشاف کر رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’جنوبی ایشیا کے نشیبی ڈیلٹا علاقوں اور ہندوستان کے کولکاتا اور ممبئی اور بنگلہ دیش کے ڈھاکہ جیسے شہروں میں سب سے بڑا اثر لوگوں کی نقل مکانی کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔ یہاں 1.4 کروڑ سے زیادہ لوگوں کے گھر ہمیشہ کے لیے پانی میں ڈوبنے کا خطرہ ہے۔‘‘ رپورٹ میں اس خوفناک صورت حال کے پیش آنے کے لیے کوئی مقررہ مدت طے نہیں کی گئی ہے۔ نیویارک میں ایک پریس کانفرنس میں اسسٹنٹ سکریٹری جنرل ناوید حنیف نے کہا کہ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح ایک چیلنج پیش کرتی ہے، کیونکہ ان علاقوں میں لوگ اپنے ساحلی علاقے کھو رہے ہیں۔ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کا اثر صرف ساحلی علاقوں تک محدود نہیں ہے۔
ناوید حنیف نے مزید کہا کہ ’’براہ کرم سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کو ایک بڑے نظامی مسئلے کے طور پر دیکھیں، کیونکہ اس کا اثر صحت، غذائی تحفظ، انسانی حقوق اور ثقافت پر پڑے گا۔ آپ اپنی آبائی زمین اور اپنی شناخت کھو دیں گے۔ اس لیے حکومتوں کو اس مسئلے کو اپنی منصوبہ بندی کے عمل کا حصہ بنانے کے لیے بہت وسیع نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔‘‘ گزشتہ ہفتہ نیپال-تبت سرحد پر ہمالیہ سے گلیشیئر کے ٹوٹنے اور نیچے گرنے سے پانی اور کیچڑ کا سونامی جیسا سیلاب آیا، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے اور کئی علاقے تباہ ہو گئے۔
جنوبی ایشیا پر گلیشیئرز کے پگھلنے یا ٹوٹ کر نیچے گرنے کے اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر حنیف نے کہا کہ ہمالیہ کے گلیشیئرز کو ’تیسرا قطب‘ مانا جاتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے پاس شمالی قطب اور جنوبی قطب ہیں اور جنوبی ایشیا میں دنیا کے گلیشیئرز کا بڑا ذخیرہ ہونے کی وجہ سے اسے ’تیسرا قطب‘ مانا جاتا ہے۔ اگلے 15 سے 20 سالوں میں جنوبی ایشیا کے لیے گلیشیئرز کے پگھلنے سے سیلاب کا خطرہ ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے بعد خشک سالی پڑ سکتی ہے، جس سے فصلیں اور غذائی تحفظ متاثر ہو سکتا ہے اور بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 77 کروڑ افراد، یعنی زمین پر ہر 10 میں سے تقریباً ایک شخص خطرے میں ہے، کیونکہ وہ ایسے ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں جو ہائی ٹائیڈ لائن (جوار بھاٹا کے دوران پانی کی زیادہ سے زیادہ سطح کی لکیر) سے 5 میٹر سے بھی کم اونچے ہیں اور پہلے ہی بڑے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں سمندر کی سطح بلند ہونے سے متعلق خطرات کے باعث کم از کم 1.8 ٹریلین ڈالر مالیت کے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’سمندر کی سطح بلند ہونے سے پہلے ہی شہری بنیادی ڈھانچے، آبی نظام، نقل و حمل، توانائی کے گرڈ، عمارتوں اور زیر زمین پانی کے وسائل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے دور رس نتائج سامنے آ رہے ہیں، جو طویل مدت میں انسانی حقوق سے مؤثر طور پر مستفید ہونے کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق اگرچہ سمندر کی سطح بلند ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ جزیرہ نما ممالک کو محسوس ہوگا، لیکن یہ خطرہ جغرافیائی سرحدوں کو نہیں مانتا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’مثال کے طور پر، امریکہ میں میامی اور نیویارک اور چین میں گوانگژو جیسے زیادہ آمدنی والے شہروں میں بنیادی اثر ساحلی بنیادی ڈھانچے پر پڑنے والا بھاری مالی خطرہ ہے، جس میں خطرے سے دوچار املاک کی تخمینی مالیت 2 ٹریلین ڈالر سے 3.5 ٹریلین ڈالر کے درمیان ہے۔‘‘