نیویارک/کٹھمنڈو 31/اگست (ایس او نیوز): نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب اور فلیش فلڈ کے باوجود دنیا کے مقدس ترین پہاڑوں میں شمار ہونے والے ماؤنٹ کیلاش کی یاترا کے لیے جانے والے متعدد زائرین کا سفر ایک المناک صورت حال میں تبدیل ہوگیا۔ سیلاب نے اس دشوار گزار پہاڑی خطے میں رابطہ سڑکوں، پلوں اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ کئی سیاحوں اور یاتریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ماؤنٹ کیلاش نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں واقع ایک برف پوش پہاڑ ہے، جسے ہندو، بدھ مت، جین اور سکھ مذاہب کے پیروکار انتہائی مقدس مانتے ہیں۔ ہندو مذہب میں اسے بھگوان شیو اور دیوی پاروتی کا مسکن تصور کیا جاتا ہے۔ یاتری عام طور پر پہاڑ کے گرد تقریباً 33 میل کا پیدل طواف کئی دنوں میں مکمل کرتے ہیں۔ اس سفر کا مقصد پہاڑ کی چوٹی سر کرنا نہیں بلکہ مقدس پہاڑ کے گرد چکر لگا کر روحانی برکت اور نجات حاصل کرنا سمجھا جاتا ہے۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والی 67 سالہ امیتا امین بھی اس ماہ ایک چھوٹے گروپ کے ساتھ ماؤنٹ کیلاش کی یاترا پر گئی تھیں۔ یہ ان کا ساتواں سفر تھا اور رواں سال وہ دوسری مرتبہ اس مقدس مقام کی طرف گئی تھیں۔ ان کے خاندان کے مطابق وہ مذہبی عقیدے میں انتہائی پختہ تھیں اور ماؤنٹ کیلاش کو خدا کے گھر کے قریب ترین مقام سمجھتی تھیں۔
امیتا امین کا گروپ بدھ کی صبح نیپال-تبت سرحد کے قریب موجود تھا۔ ان کے گروپ میں دیگر یاتریوں کے علاوہ تین نیپالی گائیڈ بھی شامل تھے۔ گروپ کے ٹور آپریٹر دیپک لامیچھانے کے مطابق آخری مرتبہ ان سے رابطہ ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد علاقے میں گلیشیائی پانی کے اخراج کے باعث اچانک سیلاب آیا۔ اس کے بعد گروپ سے رابطہ منقطع ہوگیا اور ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
امیتا کے خاندان کے علاوہ نیویارک کے کوئنز علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ جوڑے نیلم اور رمیش شرما بھی اسی یاترا کے دوران لاپتہ ہونے والوں میں شامل ہیں۔ ان دونوں کی عمر 60 برس سے زیادہ ہے اور انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ماؤنٹ کیلاش کی یاترا کا فیصلہ کیا تھا۔
امیتا کے بیٹے دھرو امین نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی والدہ اور دیگر یاتری شاید چین کی جانب سرحد پار پھنسے ہوئے ہوں، جہاں سیلاب کے باعث نیپال اور چین کو ملانے والا پل تباہ ہوگیا اور مواصلاتی رابطے بھی منقطع ہوگئے۔ خاندان اب بھی اس امید پر ہے کہ امدادی ٹیمیں انہیں زندہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔
ماؤنٹ کیلاش کی یاترا دنیا کی مشکل ترین مذہبی زیارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خطہ سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلندی پر واقع ہے اور سخت موسم، برف پوش پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کے باعث یاتریوں کو جسمانی طور پر انتہائی مشکل سفر کرنا پڑتا ہے۔ بعض تبتی بدھ مت کے پیروکار تو پہاڑ کے گرد پورا راستہ سجدہ کرتے ہوئے طے کرتے ہیں، جس میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔
ہندو عقیدے کے مطابق ماؤنٹ کیلاش بھگوان شیو کا مسکن ہے، جبکہ اس پہاڑ سے پگھلنے والی برف کا پانی مقدس جھیل مانسرور کو سیراب کرتا ہے۔ ہندوؤں کے علاوہ بدھ مت کے پیروکار اسے روحانی پاکیزگی اور برکت کا مقام مانتے ہیں۔ جین مذہب میں بھی اسے انتہائی اہم مقدس مقام کا درجہ حاصل ہے، جبکہ سکھ روایت میں بھی پہاڑ سے متعلق مذہبی روایات موجود ہیں۔
اس سال کی قدرتی آفت نے تاہم اس مقدس سفر کو انتہائی خطرناک بنا دیا۔ نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں آنے والے سیلاب نے بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے تک تباہ کن سیلاب میں کم از کم 675 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی تھی، جبکہ تقریباً 2,400 افراد لاپتہ تھے اور 7,000 سے زیادہ افراد کو بچایا جاچکا تھا۔
ماؤنٹ کیلاش جانے والے یاتریوں کے لیے یہ سفر محض ایک سیاحتی مہم نہیں بلکہ عقیدے، قربانی اور روحانی تجربے کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سخت موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود ہر سال ہزاروں عقیدت مند اس مقدس پہاڑ کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ سیلاب نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کے دور میں ہمالیائی خطے کے مذہبی اور سیاحتی مقامات تک محفوظ رسائی کس طرح برقرار رکھی جاسکتی ہے۔
امیتا امین کے خاندان کے لیے فی الحال عقیدت سے بھرا یہ سفر ایک بے یقینی میں بدل چکا ہے۔ ان کے بیٹے کو امید ہے کہ ان کی والدہ کہیں محفوظ مقام پر موجود ہوں گی اور اگر انہیں بچالیا گیا تو وہ اس سفر سے واپسی پر اپنی زندگی کے سب سے غیر معمولی تجربے کی داستان خود بیان کریں گی۔