جنیوا ، 29/ اگست (ایس او نیوز / ایجنسی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نیپال میں آئے سیلاب کے پیش نظر اپنی امداد کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، جس کے تحت فوری طور پر ایک لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر کی رقم جاری کی گئی ہے۔ ضروریات کے جائزے کا عمل جاری ہے اور اضافی وسائل جاری کیے جانے کی بھی امید ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ قدرتی آفت شروع ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ڈبلیو ایچ او نے ہنگامی امدادی سامان روانہ کر دیا تھا، جس میں بین ایجنسی ہنگامی طبی امدادی سامان بھی شامل تھا، جو تقریباً 10 ہزار افراد کے لیے 3 ماہ تک ضروری اشیاء فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے علاوہ امدادی سامان میں خیمے، 10 ہزار ماسک، دستانے اور ہینڈ سینیٹائزر بھی شامل تھے۔
ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس کے مطابق ہماری فوری ترجیح متاثرہ برادریوں کے لیے صحت خدمات کی معاونت کرنا اور متاثرہ صحت کی خدمات کو بحال کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ڈبلیو ایچ او، نیپالی حکومت کی قیادت میں عوامی صحت کے تحفظ کے لیے شراکت داروں کے درمیان اہم ہم آہنگی، نگرانی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ برادریوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں تمام شراکت داروں کی مسلسل مدد انتہائی اہم ہوگی۔ ڈبلیو ایچ او اس مشکل وقت میں نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ملک کی بدلتی ضروریات کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ہندوستانی وزارت خارجہ نے جمعہ (28 اگست) کو بتایا کہ 10 ٹن سے زائد انسانی امدادی سامان اور ڈاکٹروں و پیرا میڈیکل عملے کی ٹیم کو لے کر تیسری خصوصی پرواز نئی دہلی سے کٹھمنڈو کے لیے روانہ ہوئی ہے۔ ہندوستان بدھ کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد پڑوسی ہمالیائی ملک نیپال کی مدد کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے مطابق اس امدادی سامان میں پورٹیبل جنریٹر سیٹ، ڈگنٹی کٹس، غذائی پیکٹ اور پانی صاف کرنے کی گولیاں شامل ہیں۔ 11 رکنی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی ٹیم کے ساتھ سرنگ میں بچاؤ مہم کے لیے ایک ریکی ٹیم بھی اس پرواز میں سوار ہے۔ ہندوستان نیپال میں جاری امدادی اور بچاؤ کی کوششوں میں اپنا تعاون جاری رکھے گا۔