ٹمکورو، 11/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) مرکزی مزدور تنظیموں کی مشترکہ کمیٹی اور متحدہ کسان مورچہ کی جانب سے 10 اگست کو ’’بھارت چھوڑو تحریک‘‘ کی یاد میں دی گئی جیل بھرو تحریک کی اپیل کے تحت ٹمکورو شہر میں کسانوں اور مزدوروں نے زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین نے آزادی چوک سے ڈپٹی کمشنر دفتر تک جلوس نکالا اور دفتر کے گھیراؤ کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، جس کے دوران بیریکیڈ ہٹانے کو لے کر پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔ بعد ازاں پولیس نے متعدد احتجاجیوں کو گرفتار کرکے حراست میں لے لیا۔
ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کسان سنگھ کے ضلعی صدر اے۔ گووند راجو نے مطالبہ کیا کہ ضلع میں کسانوں کی زمین چھیننے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسان پہلے ہی مختلف مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کی زمینوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز کے ضلعی صدر سید مجیب نے مزدور مخالف قوانین واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے مزدور ضابطے مزدوروں کو غلامی کی طرف دھکیلنے والے ہیں۔ انہوں نے ہر مزدور کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 42,000 روپے مقرر کرنے، ٹھیکہ اور ذیلی ٹھیکہ نظام ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
سید مجیب نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر کانگریس حکومت میں ہی سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے دور میں کم از کم اجرت مقرر کی گئی تھی تو اب وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار کی قیادت والی حکومت اسے نافذ کرنے سے گریز کیوں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کو واضح موقف اختیار کرنا چاہئے۔
ریاستی کسان سنگھ کے ضلعی صدر دوڈّننجپا نے بے گھر کسانوں اور سرکاری زمین پر کاشت کرنے والے مستحقین کے مسائل پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے معاملے کو مسلسل ٹال مٹول کا شکار بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو زمین دی جانی چاہئے، انہیں زمین فراہم نہیں کی جا رہی، جبکہ دوسری جانب کسانوں کی زمین حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اے آئی ٹی یو سی کے گریش نے کہا کہ مزدور قوانین میں کی جانے والی تبدیلیوں سے مزدور یونینوں کا وجود کمزور ہوگا اور ان قوانین کا فائدہ صرف سرمایہ دار طبقے کو پہنچے گا۔ انہوں نے مزدوروں کے اجتماعی حقوق اور تنظیم سازی کے حق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
اے آئی یو ٹی یو سی کی منجولا گونّا ور نے کہا کہ مہنگائی نے عام لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ حکومت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے اور غیر منظم شعبے کے مزدوروں کو مناسب سماجی تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر ریاستی کسان سنگھ کے شنکرپا، علاقائی کسان سنگھ کے بی۔ امیش، سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز کے این۔ کے۔ سبرامنیا، آنگن واڑی ملازمین کی تنظیم کی جے۔ کمل سمیت مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔
احتجاج میں سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز کے ضلعی خزانچی اے۔ لوکیش، شنمکھپا، اکشر داسوہ ملازمین کی تنظیم کی ناگ رتنا، آنگن واڑی کارکنان انسویا اور سروجہ، کچرا گاڑی ڈرائیوروں، لاری و کلینر یونینوں، بلدیاتی صفائی کارکنوں، اسپتال ملازمین، تعمیراتی مزدوروں اور دیگر مزدور تنظیموں کے عہدیداروں اور کارکنوں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے حکومت سے کسانوں کی زمینوں کے تحفظ، مستحق کاشتکاروں کو زمین کے حقوق فراہم کرنے، مزدور مخالف قوانین واپس لینے، کم از کم اجرت میں اضافہ، ٹھیکہ نظام کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غیر منظم شعبے کے مزدوروں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔