ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں 1.06 کروڑ سے زائد ووٹر ASDDO زمرے میں؛ بنگلورو میں تناسب 54 فیصد سے زیادہ

کرناٹک میں 1.06 کروڑ سے زائد ووٹر ASDDO زمرے میں؛ بنگلورو میں تناسب 54 فیصد سے زیادہ

Sun, 09 Aug 2026 21:38:22    S O News
کرناٹک میں 1.06 کروڑ سے زائد ووٹر ASDDO زمرے میں؛ بنگلورو میں تناسب 54 فیصد سے زیادہ

بنگلورو، 9 اگست (ایس او نیوز): کرناٹک میں جاری خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران ریاست کے 1.06 کروڑ سے زائد ووٹرز ASDDO یا unmapped زمرے میں سامنے آئے ہیں، جو ریاست کے تقریباً 5.54 کروڑ ووٹرز کا لگ بھگ 19 فیصد ہے۔ اس کے برعکس، شہری نقل مکانی سے متاثرہ بنگلورو میں صورت حال کہیں زیادہ نمایاں ہے، جہاں 54 فیصد سے زائد انتخابی ریکارڈ ASDDO یا unmapped زمرے میں آتے ہیں۔

ASDDO سے مراد Absent، Shifted، Dead، Duplicate اور Others یعنی غیر حاضر، منتقل ہوچکے، فوت شدہ، پہلے سے کہیں اور درج یا دیگر وجوہات کے تحت نشان زد ووٹر ہیں۔ اس کے علاوہ unmapped سے مراد وہ انتخابی ریکارڈ ہیں جنہیں سابقہ انتخابی فہرستوں کے ساتھ مطلوبہ طور پر map نہیں کیا جاسکا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک کی تقریباً 5.54 کروڑ کی انتخابی فہرست میں 1.06 کروڑ سے زائد ووٹر ASDDO یا unmapped زمرے میں ہیں۔ تاہم یہ تمام ووٹر ایسے نہیں ہیں جن کے نام لازماً انتخابی فہرست سے حذف کیے جائیں گے۔ انتخابی حکام کے مطابق ASDDO کی نشاندہی فیلڈ ویری فکیشن کے دوران کی گئی ہے اور غلط درجہ بندی کی صورت میں ریکارڈ کی اصلاح کا طریقہ موجود ہے۔

بنگلورو میں صورت حال ریاست کے مقابلے میں خاصی مختلف ہے۔ Greater Bengaluru Area (GBA) میں ایک کروڑ سے زیادہ ووٹر ہیں اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 54 فیصد سے زائد ووٹر ASDDO یا unmapped زمرے میں آتے ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں شہر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی تیز رفتار شہری توسیع، ایک مقام سے دوسرے مقام پر نقل مکانی اور کرائے کے مکانوں میں رہنے والی بڑی آبادی شامل ہیں۔

اس سے قبل 22 جولائی تک GBA میں enumeration forms کی digitisation کی رفتار بھی ریاست کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ اس وقت ریاست میں تقریباً 67 فیصد فارم digitise ہوچکے تھے، جبکہ GBA میں یہ شرح تقریباً 31 فیصد تھی۔ اسی دوران بنگلورو میں تقریباً 25.47 لاکھ ووٹر ASDDO زمرے میں نشان زد کیے جاچکے تھے۔

ریاستی سطح پر ASDDO کیسز کی تعداد بھی وقت کے ساتھ بڑھتی رہی۔ 29 جولائی کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 84.3 لاکھ ووٹرز، یعنی ریاست کے 15 فیصد کے قریب، ASDDO فہرست میں نشان زد تھے، جبکہ Greater Bengaluru Area میں ریاست کے مجموعی ASDDO کیسز کا تقریباً 46.7 فیصد حصہ تھا۔ بعد کے اعداد و شمار میں ASDDO اور unmapped ریکارڈ کو ملا کر ریاستی تعداد 1.06 کروڑ سے تجاوز کرگئی۔

چیف الیکٹورل آفیسر وی انبوکمار کے مطابق ASDDO کیسز میں فیلڈ ویری فکیشن کے دوران spot mahazar تیار کیا گیا ہے۔ اس عمل میں متعلقہ معاملے کے مطابق Booth Level Agents، مقامی افراد یا BLO supervisors کو گواہ بنایا گیا۔ فوت شدہ ووٹرز کے معاملے میں death certificate یا spot mahazar کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔

انتخابی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی حقیقی ووٹر کو غلطی سے ASDDO زمرے میں شامل کیا گیا ہے تو اسے درست کیا جاسکتا ہے۔ BLOs کو غلط mapping یا غلط classification کی صورت میں ریکارڈ درست کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ Electoral Registration Officers بھی غلط اندراجات کو واپس درست کرسکتے ہیں۔

دریں اثنا، SIR کے enumeration مرحلے کی آخری تاریخ میں توسیع کردی گئی ہے۔ پہلے 9 اگست آخری تاریخ مقرر تھی، لیکن اب ووٹروں اور انتخابی عملے کو 17 اگست تک مزید وقت دیا گیا ہے۔ اس توسیع کے بعد مسودہ انتخابی فہرست کی اشاعت کی تاریخ بھی آگے بڑھے گی۔

انتخابی حکام کے مطابق ASDDO زمرے میں شامل ووٹروں کو لازماً دوبارہ enumeration form بھرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ان معاملات میں فیلڈ ویری فکیشن کیا جاچکا ہے۔ تاہم اگر کسی حقیقی ووٹر کو غلطی سے اس زمرے میں شامل کیا گیا ہے تو وہ متعلقہ BLO یا انتخابی افسر سے رابطہ کرکے اپنی تفصیلات درست کراسکتا ہے۔

کرناٹک میں SIR کا مقصد انتخابی فہرستوں کو تازہ اور درست بنانا ہے، لیکن بنگلورو میں ASDDO اور unmapped ووٹرز کی غیر معمولی تعداد نے اس عمل کو خاصی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ریاستی سطح پر تقریباً پانچ میں سے ایک ووٹر کا ریکارڈ ASDDO یا unmapped زمرے میں آنا، جبکہ بنگلورو میں یہ تناسب نصف سے بھی زیادہ ہونا، SIR کے دوران شہری اور دیہی علاقوں کی مختلف انتخابی صورت حال کو نمایاں کرتا ہے۔


Share: