ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایران تنازع پر خلیجی ممالک کے مصالحتی رابطے تیز

ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایران تنازع پر خلیجی ممالک کے مصالحتی رابطے تیز

Mon, 03 Aug 2026 11:28:48    S O News

واشنگٹن ، 3/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت پیر کی دوپہر ایک بار پھر شروع ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے امریکہ سے ایران کے خلاف منصوبہ بند حملے روکنے کے لیے کہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز جاتے ہوئے ایئر فورس وَن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’آبنائے ہرمز سے متعلق ایک معاہدہ ہو گیا ہے اور پھر جوہری معاملے پر ایک معاہدہ ہوگا یا آپ اسے ایران کی جوہری تخفیف اسلحہ کہہ سکتے ہیں۔‘‘

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بھی امریکہ سے منصوبہ بند حملے واپس لینے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب ہم جو کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم ان سے مذاکرات کے طور پر بات کر رہے ہیں۔‘‘ امریکی حکام کی جانب سے نیوز ایجنسی ’ایکسیوس‘ کو دی گئی معلومات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان آل سعود نے ہفتہ کے روز فون پر ٹرمپ سے بات کی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے خلاف مجوزہ کارروائی کے منصوبہ کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ نیوز ایجنسی ’ژنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور دیگر ممالک نے بھی امریکہ اور ایران سے کشیدگی کم کرنے اور مزید تنازعہ سے بچنے کی اپیل کی ہے۔

بہرحال، اس سے قبل اتوار کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر منصوبہ بند فوجی حملے کو مؤخر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک نے اسے روکنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممکنہ معاہدے کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ مکمل طور پر تیار ہے اور حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہے اور پوری طاقت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے واشنگٹن سے فوجی کارروائی میں تاخیر کرنے کی اپیل کی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنا شامل ہوگا۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اسرائیل اس عزم میں میرے ساتھ ہے۔ سب لوگ کام پر لگ جائیں اور اسے مکمل کریں۔‘‘ ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے، اس کی مدت یا ایران و اسرائیل کی جانب سے ان کی پوسٹ میں کیے گئے دعووں کی باضابطہ تصدیق کے حوالے سے مزید کوئی معلومات نہیں دیں۔


Share: