ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / القدس اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے 14 عرب و فلسطینی تنظیموں کی مشترکہ ہنگامی اپیل

القدس اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے 14 عرب و فلسطینی تنظیموں کی مشترکہ ہنگامی اپیل

Thu, 30 Jul 2026 19:29:10    S O News

یروشلم  ، 30/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) چودہ عرب اور فلسطینی اداروں اور تنظیموں نے مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ ہنگامی اپیل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر اس وقت اپنی جدید تاریخ کے نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے حالیہ اقدامات مسجد اقصیٰ، اہلِ القدس اور شہر کی عرب، اسلامی اور مسیحی شناخت کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے باعث فوری بین الاقوامی مداخلت ناگزیر ہو گئی ہے۔ استنبول سے جاری ہونے والی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ ’’مسجد اقصیٰ، اہلِ القدس اور شہر کی عرب، اسلامی اور مسیحی شناخت کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، جن کا مقصد زمینی حقائق تبدیل کرنا اور طاقت کے ذریعے نئے حالات مسلط کرنا ہے۔‘‘

نظیموں کے مطابق بیت المقدس اپنی جدید تاریخ کے انتہائی خطرناک دور سے گزر رہا ہے۔ اپیل میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی سیکوریٹی فورسیز کے تحفظ میں یہودی آبادکاروں کے مسجد اقصیٰ میں بڑھتے ہوئے داخلوں، عبادت گاہ کی زمانی اور مکانی تقسیم نافذ کرنے کی مبینہ کوششوں، نمازیوں پر حملوں، مذہبی و قومی شخصیات کے خلاف اخراجی احکامات، مسجد کے محافظوں کو نشانہ بنانے اور عبادت کی آزادی پر پابندیوں کے ذریعے تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اپیل میں مزید کہا گیا کہ بیت المقدس میں اسرائیلی پالیسیوں میں گھروں اور املاک کی مسماری، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، رہائشی حقوق کی منسوخی، نئی یہودی بستیوں کی توسیع، مسجد اقصیٰ اور قدیم شہر کے اطراف کھدائی اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں سے شہر کی تاریخی اور کثیرالثقافتی شناخت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’صرف بیانات اور مذمتیں اب کافی نہیں رہیں۔ اس سے پہلے کہ بیت المقدس کی صورتحال ناقابلِ واپسی شکل اختیار کر لے، مربوط، مسلسل اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘ تنظیموں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی، قانونی اور انسانی حقوق کے محاذ پر فوری اقدامات کریں تاکہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور فلسطینی شہریوں کے خلاف مبینہ خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے، ذمہ داروں کا احتساب ہو اور غیر قانونی اقدامات کو معمول بننے سے روکا جا سکے۔

اپیل میں خصوصی طور پر اردن سے بھی مطالبہ کیا گیا، جو بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی سرپرستی کا کردار ادا کرتا ہے، کہ وہ اپنی سفارتی حیثیت استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر مؤثر حمایت حاصل کرے تاکہ مقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور شہر میں نئی زمینی حقیقتیں مسلط ہونے سے روکا جا سکے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’بیت المقدس کوئی عارضی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ اس کے عوام، ورثے اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔‘‘

یہ اپیل پاپولر کانفرنس فار فلسطینینز ابروڈ، القدس انٹرنیشنل انسٹی ٹیوشن، عرب نیشنل کانگریس، یورپی فلسطینی کانفرنس اور اسلامک نیشنل کانفرنس سمیت ۱۴؍ عرب اور فلسطینی اداروں و تنظیموں کی جانب سے جاری کی گئی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی وزراء اور آبادکاروں کے داخلوں پر خطے کے متعدد عرب اور اسلامی ممالک بھی شدید ردِعمل ظاہر کر چکے ہیں اور تاریخی حیثیت (Status Quo) برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ 


Share: