ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / راہل گاندھی کا ’شدھی کرن‘ معاملے پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

راہل گاندھی کا ’شدھی کرن‘ معاملے پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

Sun, 30 Aug 2026 11:30:51    S O News

نئی دہلی ، 30/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی دورے اور وہاں شدھی کرن کی کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نےکہا کہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں جہاں کھرگے جی نے تقریر کی تھی، وہاں ’شدھی کرن‘ کیا گیا۔ اس پر راہل نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم مودی اس معاملے میں مداخلت کریں اور ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں اور وہ بھی ایس سی /ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج کی جائے۔

راہل گاندھی نے ہلدوانی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب کانگر یس کے قومی صدر کے ساتھ اس طرح کا واقعہ ہو سکتا ہے تو عام لوگوں کے خلاف بھی ایسے واقعات ہوتے ہوں گے۔ راہل نے واضح کیا کہ شدھی کرن دراصل چھوا چھوت ہی کا دوسرا نام ہے اور اسی لئے آئین میں اسے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس والوں کی یہی ذہنیت ہے اس لئے ان کے پروردہ لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔

راہل گاندھی نے واضح طور پر کہا کہ اس طرح کی رسم کے ذریعے دلتوں کو ناپاک قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ گاؤں کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ انہوں نے کنویں سے پانی لینے پر پابندی اور چائے کی دکانوں پر الگ الگ کپ د ئیے جانے کی مثال دی۔ انہوں نے راجستھان اور اتراکھنڈ کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ راجستھان میں سی ایل پی لیڈر کے مندر جانے کے بعد مندر کا ’شدھی کرن‘ کیا گیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں آج بھی دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئین نے ’چھوا چھوت‘ کو غیر قانونی قرار دیا ہے، لیکن پھر بھی کئی جگہ دلت بچوں سے اسکولوں میں بیت الخلاء صاف کرانے اور جھاڑو-پوچھا کرانے جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ راہل گاندھی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی کے مندر جانے کے بعد ’شدھی کرن‘ کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کو اچھوت یا ناپاک سمجھا جا رہا ہے۔ ملک میں دلتوں پر بڑھتے مظالم اور توہین آمیز سلوک پر انہوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ملک میں ۲؍ نظریات کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ ایک آئین کا نظریہ اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ۔ اس ملک میں ہزاروں سال سے دلتوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ آج آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ان کے ساتھ تشدد کیا جا رہا ہے جو غیر قانونی ہے۔ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’ایک دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے اس پر اتنی ہی طاقت کے ساتھ حملہ ہوتا ہے۔ یہ روزانہ کروڑوں لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’ شدھی کرن ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت جرم ہے، لیکن ۲۰؍ دن گزر چکے ہیں اور اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اتراکھنڈ میں جن لوگوں نے شدھی کرن کیا ہے، ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو۔ 


Share: