نئی دہلی ، 7/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے آغاز کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر اس تاریخی پدیاترا کو عصری ہندوستانی سیاست کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والی ’بھارت جوڑو یاترا‘ نے ملک میں نئی امید پیدا کی، نئی توانائی بخشی اور عوام کے درمیان ایک نئے عزائم کو جنم دیا۔
جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’آج راہل گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والی تاریخی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے آغاز کی چوتھی سالگرہ ہے۔ اس عظیم سفر کا آغاز کرنے سے قبل راہل گاندھی تقریباً 120 دیگر بھارت یاتریوں کے ساتھ کنیا کماری میں واقع وویکانند میموریل گئے تھے۔ ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا آغاز کنیا کماری سے ہوا تھا اور یہ 145 دنوں تک جاری رہی۔ اس دوران یاترا نے 12 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام خطوں سے گزرتے ہوئے تقریباً 4080 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور سری نگر میں ایک بڑے اور پُرجوش جلسہ کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔‘‘
جئے رام رمیش نے کہا کہ یہ پدیاترا عصری ہندوستانی سیاست میں ایک تبدیلی لانے والا واقعہ ثابت ہوئی۔ یاترا کو ان لاکھوں ہندوستانیوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی حاصل ہوئی جو ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی عدم مساوات، سماجی پولرائزیشن اور سیاسی آمریت کے رجحان پر تشویش میں مبتلا تھے۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے مطابق ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا بنیادی مقصد آئینی اصولوں، دفعات، روایات اور طریقۂ کار پر آر ایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے کیے جا رہے منظم حملوں کو نظریاتی چیلنج پیش کرنا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس یاترا کا مقصد کسی کو ’من کی بات‘ سنانا نہیں بلکہ عوام کی ’چنتا‘ کو سننا تھا۔
جئے رام رمیش نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے ذریعہ راہل گاندھی اور ان کے ساتھ چلنے والے یاتریوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں عوام سے براہ راست رابطہ قائم کیا اور ان کے مسائل، خدشات اور تشویش کو سننے کی کوشش کی۔ یہ یاترا محض ایک سیاسی سفر نہیں تھی بلکہ اسے ہندوستان کے آئینی اور جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے ایک نظریاتی جدوجہد کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ آج اس فیصلہ کن موڑ کو یاد کرنے کا دن ہے، جس نے ملک کے اندر نئی امید پیدا کی، لوگوں کو نئی توانائی دی اور ایک نئے عزم سے روشناس کیا۔
قابل ذکر ہے کہ ’بھارت جوڑو یاترا‘ کو کانگریس نے ملک میں بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم اور سیاسی ماحول کے درمیان عوام سے براہ راست رابطہ قائم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا تھا۔ کنیا کماری سے سری نگر تک کے اس طویل پیدل سفر کے دوران راہل گاندھی نے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں، نوجوانوں، مزدوروں، کسانوں، خواتین اور دیگر شہریوں سے ملاقات کی۔ کانگریس کے مطابق اس پیدل سفر کا بنیادی پیغام ملک میں اتحاد، بھائی چارہ اور آئینی اقدار کو مضبوط کرنا تھا۔