نئی دہلی ، 6/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں اتوار کی دوپہر ایک ہاسٹل کی عمارت اچانک منہدم ہونے سے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آنے والے اس حادثے کے بعد ملبے میں کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عمارت میں ہاسٹل چلنے کی وجہ سے متعدد طلبہ کے اندر پھنسے ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر امدادی و بچاؤ کارروائی شروع کر دی گئی۔ دہلی پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی جائے حادثہ پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے کے لیے مشینوں اور دیگر آلات کا استعمال کر رہی ہیں تاکہ اندر پھنسے افراد تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملبے سے ایک نوجوان کو نکالے جانے کی اطلاع ہے، تاہم اس کی حالت کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ حکام کی جانب سے ابھی یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ حادثے کے وقت عمارت کے اندر کتنے افراد موجود تھے اور ملبے میں کتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
ستیہ نکیتن اور اس کے آس پاس کا علاقہ طلبہ کے لیے معروف ہے۔ یہاں متعدد پیئنگ گیسٹ (پی جی) سہولیت اور ہاسٹل موجود ہیں اور قریبی تعلیمی اداروں کی وجہ سے بڑی تعداد میں طلبہ رہائش پذیر ہیں۔ منہدم ہونے والی عمارت میں بھی ہاسٹل چلنے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد طلبہ کے اہل خانہ میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
مقامی افراد بھی حادثے کے فوراً بعد موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائی میں مدد کرنے کی کوشش کی۔ ملبے کے گرد بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں، تاہم پولیس نے لوگوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے تاکہ ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ نہ آئے۔
عمارت منہدم ہونے کے بعد ممکنہ خطرے کے پیش نظر آس پاس کی کچھ عمارتوں کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔ پولیس، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کے اہلکار علاقے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کی اولین ترجیح ملبے میں پھنسے افراد کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنا ہے۔
یہ علاقہ دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب واقع ہے اور یہاں بڑی تعداد میں طلبہ رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے حادثے کی اطلاع کے بعد علاقے میں تشویش کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ فی الحال حادثے میں کسی جانی نقصان کی سرکاری طور پر حتمی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ملبہ مکمل طور پر ہٹائے جانے کے بعد ہی حادثے میں پھنسے افراد کی تعداد اور ان کی صورتحال واضح ہو سکے گی۔