ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / طلبا پر مبینہ بربریت: راہل گاندھی نے امت شاہ کی برطرفی اور عدالتی نگرانی میں جانچ کا مطالبہ

طلبا پر مبینہ بربریت: راہل گاندھی نے امت شاہ کی برطرفی اور عدالتی نگرانی میں جانچ کا مطالبہ

Wed, 29 Jul 2026 19:31:22    S O News

نئی دہلی، 29/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)cانھوں نے کہا کہ دہلی میں مظاہرین طلبا پر 5 طریقوں سے بربریت ہوئی، اس کے لیے امت شاہ ذمہ دار ہیں۔ جب اس بارے میں لوک سبھا میں بات رکھنے کی کوشش ہوئی تو موقع ہی نہیں دیا گیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’میں نے اسپیکر سے کئی بار گزارش کی اور بی جے پی کے سینئر لیڈران سے بھی کہا، لیکن پھر بھی مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’میں نے امت شاہ کا نام لیا تھا۔ طلبا پر بربریت کے لیے امت شاہ ذمہ دار ہیں۔ اس پر مجھ سے معافی کے لیے کہا گیا۔ میں بی جے پی اور آر ایس ایس سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔‘‘

پریس کانفرنس میں میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’جیسا کہ آپ نے آج دیکھا، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حکومت کے دیگر اراکین کو بولنے کی اجازت دی گئی، لیکن مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ میں نے امت شاہ کے بارے میں کچھ کہا تھا۔ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ طلبا کے خلاف کی گئی بربریت کے ذمہ دار امت شاہ ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مجھے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ اگر میں معذرت کر لوں تو مجھے اپنی بات جاری رکھنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں کبھی بھی، کسی بھی صورت میں بی جے پی، آر ایس ایس یا ان سے وابستہ کسی بھی شخص سے معافی نہیں مانگوں گا۔ دوسری بات یہ کہ حزب اختلاف کے قائد کی حیثیت سے ملک کے اہم مسائل اٹھانا میرا حق ہے۔‘‘

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے واضح لفظوں میں کہا کہ ان کے نزدیک آج سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ دہلی کی سڑکوں پر طلبا کے ساتھ بربریت کی گئی۔ انھوں نے بربریت کے 5 طریقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان پر پیلیٹ گنوں سے فائرنگ کی گئی۔ ان پر صرف عام لاٹھیاں نہیں برسائی گئیں بلکہ کیل لگی لاٹھیوں اور برقی شاک دینے والے ڈنڈوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ خواتین و بچوں کی پٹائی کی گئی اور سادہ وردی والوں نے بھی طلبا کی پٹائی کی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’مظاہرین کے خلاف چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی (فیشیل ریکگنیشن) استعمال کی جا رہی ہے۔ انہیں دوبارہ آواز اٹھانے سے روکنے کے لیے بجرنگ دل کو متحرک کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں خوف زدہ کیا جا سکے۔‘‘

امت شاہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ مظاہرین طلبا پر بربریت کے ذمہ دار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’صرف دو ہی امکانات ہیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے پیلیٹ گنوں کے استعمال، لاٹھی چارج اور برقی شاک دینے والے ڈنڈوں کے استعمال کا حکم دیا تھا۔ یا پھر امت شاہ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ ان کی نااہلی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’دونوں ہی صورتوں میں انہیں اپنے عہدے سے جانا چاہیے۔‘‘

راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں امت شاہ کی غیر حاضری کا بھی ذکر اپنی پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج امت شاہ لوک سبھا میں نہیں آئے، کیونکہ وہ قصوروار ہیں۔ اگر قصوروار نہیں ہوتے تو ایوان میں آ کر جواب دے دیتے۔ اس لیے ہم کہہ رہے ہیں کہ انھیں وزیر داخلہ کے عہدہ سے ہٹنا ہوگا۔‘‘ انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ ’’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جن طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں انصاف ملے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جن لوگوں نے ہمارے طلبا پر پیلیٹ گنوں سے فائرنگ کی، انہیں سزا ملے۔ اپوزیشن طلبا کو یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ اس معاملے میں جوابدہی ضرور طے کی جائے گی۔‘‘

حزب اختلاف کے قائد نے وزیر اعظم کو کچھ مشورے بھی دیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’امت شاہ کو برطرف کریں۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک آزاد اور بااختیار اعلیٰ سطحی کمیٹی سے تحقیقات کرائیں۔ کم از کم اخلاقی طور پر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کریں۔‘‘ وہ کچھ حقائق سامنے رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’طلبا پر تشدد دہلی پولیس اور آر اے ایف (ریپڈ ایکشن فورس) نے کی ہے۔ یہ دونوں ہی وزارت داخلہ کو رپورٹ کرتے ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے میڈیا اہلکاروں کے سامنے اپنے اس خط کا بھی ذکر کیا، جو انھوں نے چند روز قبل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے 25 جولائی کو وزیر داخلہ امت شاہ کو چٹھی لکھ کر 2 سوالات پوچھے تھے۔ پہلا، کیا آپ نے طلبا پر ’لیتھل فورس‘ استعمال کرنے کا حکم دیا؟ دوسرا، سادے کپڑوں میں طلبا کو لاٹھیوں سے مارنے والے لوگ کون تھے؟ لیکن سوالوں کا کوئی جواب نہیں ملا۔‘‘ آخر میں وہ کہتے ہیں کہ ’’آج نہیں تو کل طلبا کو انصاف ضرور ملے گا۔ ایسی صورت میں مودی حکومت کو ہمارا مشورہ ہے کہ امت شاہ کو وزیر داخلہ کے عہدہ سے ہٹایا جائے اور دہلی میں طلبا پر کی گئی بربریت کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک خود مختار اعلیٰ اختیار یافتہ کمیٹی سے جانچ کرائی جائے۔‘‘


Share: