تہران ، 18 /جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں امریکی فوج نے مسلسل ساتویں رات ایران کے مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے اس کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی مفادات اور اتحادی ممالک میں موجود فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تازہ کارروائیوں کے بعد پورا خطہ شدید عسکری اور سفارتی کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں جنوبی ایران کے ایک واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں تقریباً ۱۰؍ ہزار افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو شہری بنیادی ڈھانچے پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
ادھر کویت میں بڑھتے ہوئے سلامتی کے خدشات کے باعث کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے عارضی طور پر اپنی پروازیں معطل کر دیں، جبکہ قومی فضائی کمپنی نے متعدد پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان کیا۔ خلیجی فضائی حدود میں جاری خطرات کے باعث کئی بین الاقوامی ایئرلائنز بھی اپنے روٹس کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے بھی مشرقِ وسطیٰ کے لیے نئی سفری ہدایت جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی تلقین کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی سیکوریٹی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور مقامی سیکوریٹی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، اردن اور کویت سمیت مختلف مقامات پر امریکی فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم متعدد خلیجی ممالک نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید فعال کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بھی برقرار ہے، جہاں تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی توانائی منڈی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی اہم بحری راستے سے گزرتا ہے۔ عسکری کارروائیوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے ماہرین نے شہری بنیادی ڈھانچے، خصوصاً پانی اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسے حملوں کی تصدیق ہوتی ہے تو ان کے سنگین انسانی اور قانونی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے بھی ایران کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔ دوسری طرف تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا جواب مزید سخت انداز میں دیا جائے گا۔ مسلسل سات روز سے جاری اس عسکری تصادم نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سفارت کاری، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔