ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گرفتار طلبہ کو رہا نہ کیا گیا تو بہار بھر میں بڑی تحریک چھیڑیں گے: تیجسوی یادو

گرفتار طلبہ کو رہا نہ کیا گیا تو بہار بھر میں بڑی تحریک چھیڑیں گے: تیجسوی یادو

Sun, 26 Jul 2026 18:15:00    S O News

پٹنہ ، 26/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس کے اختتام کے بعد اتوار کو پٹنہ لوٹے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے ریاستی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ ایئرپورٹ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے پیپر لیک معاملے کو لے کر احتجاج کر رہے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر گرفتار طلبہ کو جلد از جلد رہا نہیں کیا گیا تو مہاگٹھبندھن ایک بڑی تحریک شروع کرے گا۔‘‘

تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ پیپر لیک کے خلاف تحریک چلانے والے طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کو مہاگٹھ بندھن سمیت اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ پورے بہار میں ہزاروں طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، سینکڑوں طلبہ کو حراست میں لے کر جیل بھیجا گیا ہے اور ان کے خلاف غلط دفعات لگائی گئی ہیں۔

بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا کہ طلبہ تحریک کے دوران پولیس نے کئی جگہوں پر زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔ سیوان میں 3 طلبہ گولی لگنے کے باعث زخمی ہوئے ہیں۔ آر جے ڈی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ریاست کے مختلف اضلاع میں پولیس نے طلبہ اور مظاہرین کے خلاف غلط طریقے سے کارروائی کی، لاٹھی چارج کیا اور فرضی مقدمے درج کیے۔

تیجسوی یادو نے ریاستی حکومت کو دوٹوک انداز میں الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر گرفتار طلبہ کو پیر تک رہا نہیں کیا گیا اور ان کے خلاف درج معاملات واپس نہیں لیے گئے تو اپوزیشن ریاستی سطح پر بڑی تحریک شروع کرے گی۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طلبہ کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 21 سالوں میں ریاست میں منعقدہ مختلف مسابقتی امتحانات میں مسلسل بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ خواہ سپاہی بھرتی امتحان ہو، بی پی ایس سی کا امتحان ہو، نیٹ یا کوئی اور مسابقتی امتحان ہو ہر جگہ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف پیپر لیک نہیں بلکہ ’سرکاری لیک‘ ہے، جس کے لیے حکومت جوابدہ ہے۔

آر جے ڈی رہنما نے ریاستی حکومت پر بدعنوانی اور جرائم کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’بہار میں بدعنوان اور جرائم پیشہ افراد کا بول بالا ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب تک موجودہ حکومت اقتدار میں رہے گی تب تک ایسے واقعات رکنے والے نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جدوجہد مزید تیز کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مفادات کے تحفظ اور شفاف امتحانی نظام کے مطالبے کے لیے تحریک جاری رہے گی۔


Share: