نئی دہلی ، 17/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)سپریم کورٹ نے کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان کاویری ندی کے پانی کی تقسیم کے تنازعہ پر سماعت کرتے ہوئے معاملے کی تازہ صورت حال سے متعلق اعداد و شمار کے ساتھ اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت ایک ہفتے بعد مقرر کی ہے اور متعلقہ حکام کو کاویری پانی انتظامیہ سے متعلق احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
یہ معاملہ تمل ناڈو حکومت اور ڈی ایم کے کی جانب سے دائر درخواستوں کے بعد سپریم کورٹ کے سامنے آیا ہے۔ درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کرناٹک کو تمل ناڈو کے لیے کاویری ندی کا پانی فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت دی جائے۔ تمل ناڈو کا کہنا ہے کہ کمزور مانسون اور بارش میں کمی کے باعث اسے اپنے مقررہ حصے کا مکمل پانی نہیں مل پا رہا ہے۔
تمل ناڈو حکومت نے کرناٹک پر کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی (سی ڈبلیو آر سی) کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ سماعت کے دوران تمل ناڈو کی جانب سے کہا گیا کہ کرناٹک نے آبپاشی کے لیے پانی چھوڑنا شروع کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود تمل ناڈو تک مطلوبہ پانی نہیں پہنچ رہا ہے۔
دوسری جانب کرناٹک حکومت نے عدالت کے سامنے ریاست کی صورت حال کی درست تصویر پیش نہ کیے جانے کی بات کہی۔ کرناٹک کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کاویری بیسن میں پانی کا شدید بحران ہے اور آبی ذخائر میں پانی کی کمی برقرار ہے۔
کرناٹک حکومت کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ بدھ کی صبح تک پانی کی فراہمی 12 ہزار کیوسک سے زیادہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ پانی کی یہ فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ اس پر سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام سے کہا کہ کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی (سی ڈبلیو ایم اے) کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اس تنازعہ کے درمیان کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمل ناڈو کے لیے 12 ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا حکم موصول ہوا ہے۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ وہ ریاست کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ڈیموں میں دستیاب پانی کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے۔
دریں اثنا کرناٹک کے کسانوں سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ پانی چھوڑنے کے حکم پر پریشان نہ ہوں، صبر کا مظاہرہ کریں اور امن برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت عدالت کے احکامات کا احترام کرے گی، تاہم کرناٹک کے کسانوں کی فصلوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش بھی کی جائے گی۔