نئی دہلی ، 17/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)این ٹی اے کے ذریعہ یو جی سی-نیٹ کے کچھ امتحانات منسوخ کیے جانے کی خبر نے ایک بار پھر مودی حکومت کے لیے مشکلیں پیدا کر دی ہیں۔ پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کو لے کر پہلے ہی اپوزیشن پارٹیاں مودی حکومت کی ناک میں دَم کیے ہوئی ہیں، اب تازہ معاملہ نے اپوزیشن کو مزید موقع فراہم کر دیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے تو اس معاملہ میں سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے براہ راست وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے این ٹی اے کے ذریعہ انگریزی، کامرس اور سماجیات کے امتحانات منسوخ کیے جانے سے متعلق اعلان پر مبنی ’ایکس‘ پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’دیکھیے مودی جی، آپ کی این ٹی اے نے کیا کر دیا ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’سماجیات، انگریزی اور کامرس کے لیے یو جی سی-نیٹ کے امتحانات 22 سے 30 جون کے درمیان منعقد کیے گئے تھے۔ تقریباً 2 ماہ بعد این ٹی اے نے ان تینوں امتحانات کو منسوخ کر دیا، کیونکہ اس نے غلط سوالنامے تیار کیے اور پرانے سوالات دہرائے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہزاروں امیدواروں نے برسوں تیاری کی، فارم بھرے، فیس ادا کی، دور دراز کے مراکز تک سفر کیا، اب انہیں ستمبر میں یہ سب کچھ دوبارہ کرنا ہوگا۔ غلطی این ٹی اے کرتا ہے، لیکن سزا طالب علم بھگتتا ہے۔‘‘
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے یہ بات (امتحانات میں بے ضابطگی) کوٹا، دہرادون اور پریاگ راج میں کہی ہے، اور میں اسے کہتا رہوں گا کہ یہ اب تعلیمی نظام نہیں رہا۔ یہ وسائل نچوڑنے والی ایک مشین ہے۔ یہ آپ کے پیسے، آپ کے سال، آپ کی ذہنی صحت اور آپ کا اعتماد لے لیتی ہے اور بدلے میں کچھ نہیں دیتی۔ نوکری تک نہیں۔‘‘ وہ تازہ معاملہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’این ٹی اے اب بھی اصل سوال کا جواب نہیں دے رہا... کیا امتحان سے پہلے یہ سوالنامے لیک ہو گئے تھے؟‘‘
مودی حکومت پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’مودی حکومت کے ہر دوسرے ادارے کی طرح این ٹی اے بھی کبھی یہ نہیں کہتا کہ غلطی اس کی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ دوسرے تمام کمپرومائزڈ پیپر کی طرح، اس معاملے میں بھی کسی کی جواب دہی نہیں ہوگی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ پہلا قدم تھا، آخری نہیں۔ این ٹی اے کی قیادت کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘‘
اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے ستمبر ماہ میں دوبارہ یہ امتحان دینے والے سبھی طالب علم سے بھی خطاب کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مسئلہ آپ نہیں ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے ایسا نظام بنایا ہے جو ایک امتحان بھی منعقد نہیں کر سکتا اور پھر اس میں بیٹھنے والے طلبا کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’آپ کے سال چوری کیے جا رہے ہیں اور ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک وزیر اعظم مودی اس کے لیے جواب نہیں دیتے۔‘‘