ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / طلبہ احتجاج پر پولیس کارروائی: سپریم کورٹ کا آزادانہ تحقیقات کا عندیہ، مرکز سمیت 7 ریاستوں کو نوٹس

طلبہ احتجاج پر پولیس کارروائی: سپریم کورٹ کا آزادانہ تحقیقات کا عندیہ، مرکز سمیت 7 ریاستوں کو نوٹس

Tue, 28 Jul 2026 17:14:44    S O News

نئی دہلی،  28/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)نیٹ پیپر لیک اور نظامِ امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر ہوئے طلبہ احتجاج کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا اور بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی چھوڑے تھے۔ اس پر منگل (28 جولائی) کو سپریم کورٹ میں سی جے آئی سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے سماعت ہوئی۔ عدالت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا سینئر پولیس افسران کے ساتھ موجود تھے۔ عرضی گزاروں کی طرف سے پیش سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے کہا کہ ’’یہ عرضی صرف دہلی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں مدھیہ پردیش، ناگپور اور بہار کے معاملے بھی شامل ہیں۔‘‘ عدالت نے حکم دیا ہے کہ فی الحال ایف آئی آر پر کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی مرکز سمیت 7 ریاستوں کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کہا کہ ’’معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’شروع میں تحریک پرامن طریقے سے چل رہی تھی تو پھر ایک روز اچانک تشدد کیسے بھڑک اٹھا؟ اس کی 2 وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ پولیس نے زیادہ سختی کر دی اور دوسری یہ کہ مظاہرین میں کچھ ایسے لوگ شامل ہو گئے جو تشدد بھڑکانا چاہتے تھے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب ایک پروٹوکول بن جائے گا تب جوابدہی طے کرنا آسان ہو جائے گا۔ ۔

چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ تمام عرضیوں میں ایک جیسے معاملے اٹھائے گئے ہیں، جن میں پیلٹ گن کے استعمال سے ایک 19 سالہ نوجوان کی آنکھوں کی روشنی جانے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ الیکٹرک بیٹن کا استعمال، ایک لڑکی کے شدید زخمی ہونے اور آئی سی یو میں زیر علاج ہونے، وکلاء پر حملے اور ایک صحافی پر حملے کا بھی ذکر عرضیوں میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ سادہ کپڑوں میں موجود پولیس اہلکاروں کے تشدد، نوجوان لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ایک خاتون پر سینیئر پولیس اہلکار کے ذریعے حملے کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں تفصیلی بحث کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مسئلہ صاف ہے۔ طلبہ نے اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کیا تھا اور احتجاج کا حق ہندوستان کے آئین سے ملا ہوا ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے یہ بھی کہا کہ مظاہروں میں ہمیشہ کچھ شرپسند عناصر اپنے مقاصد کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں اور بعد میں خود کو منتظمین جیسا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔

عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ ’’سابق چیف جسٹس کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ عدالت مستقبل کے اقدامات کی بات کر رہا ہے، ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن ان واقعات کی بھی غیر جانبدارانہ انکوائری ضروری ہے۔ مظاہرین کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے شناخت کر کے اسے عام کرنے پر بھی روک لگنی چاہیے۔ اس میں طلبہ اور کئی نابالغ شامل ہیں۔‘‘

وکیل گوپال شنکر نارائنن نے عدالت کو بتایا کہ ایک ویڈیو میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر خود ایک کار کے شیشے توڑتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری اعلیٰ سطح تک طے ہونی چاہیے، ورنہ پولیس کو لگے گا کہ وہ بچ نکلیں گے۔ سینئر وکیل شادان فراست نے بتایا کہ جو پولیس اہلکار وردی میں موجود تھے، ان کے پاس بھی نام کی پٹیاں نہیں تھیں۔

بہار سے وابستہ معاملے میں سینئر وکیل شادان فراست نے کہا کہ وہاں تشدد کی شدت دہلی سے بھی زیادہ رہی ہے اور اس کی آل انڈیا سطح پر انکوائری ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ بہار حکومت نے ایف آئی آر  واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن 140 سے زیادہ لوگ اب بھی حراست میں ہیں، جن میں زیادہ تر 16 سے 18 سال کے نابالغ ہیں اور ایک بچہ تو صرف 13 سال کا ہے۔ ان نابالغوں کو 40 گھنٹے سے زیادہ وقت کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔

سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے بتایا کہ جنید ملک نام کے ایک نوجوان کو، جو کھانا تقسیم کرنے آیا تھا اسے اٹھا کر آنکھوں پر پٹی باندھ کر مسوری ہائی وے پر چھوڑ دیا گیا۔ ان کے خاندان کے افراد سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ سینئر وکیل شیام دیوان نے کہا کہ جنتر منتر پر صبح 4 بجے پتھروں سے بھرا ایک ٹرک لایا گیا تھا، جو دہلی پولیس کے کئی گھیروں کو پار کر کے اندر آیا۔ وکیل ورندا گروور نے کہا کہ اگر پولیس کو یہ نہیں معلوم کہ ٹرک کیسے اندر آیا، تو یہ اور بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔

جسٹس باغچی نے پولیس اہلکاروں کے پاس حفاظتی آلات نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حفاظتی آلات جارحانہ آلات سے زیادہ ضروری ہے۔ سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے ریاست وار واقعات کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ ’’انتہائی محتاط الفاظ میں بھی کہا جائے تو آزادانہ تحقیقات کی ضرورت واضح طور پر نظر آتی ہے اور اس کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی یا ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے گی۔‘‘


Share: