ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پرشانت کشور کا دعویٰ: جین زی تحریک ابھی ابتدائی مرحلے میں، اصل اثر اگلے ڈیڑھ دو سال میں سامنے آئے گا

پرشانت کشور کا دعویٰ: جین زی تحریک ابھی ابتدائی مرحلے میں، اصل اثر اگلے ڈیڑھ دو سال میں سامنے آئے گا

Mon, 10 Aug 2026 13:54:43    S O News

نئی دہلی، 10 اگست (ایس او نیوز): جن سوراج پارٹی کے بانی اور حالیہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے مضبوط قلعے کو منہدم کرکے کامیابی حاصل کرنے والے پرشانت کشور نے جین زی (Gen Z) کی حالیہ احتجاجی تحریک کو ہندوستان کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحریک ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کا اصل اثر آنے والے ایک سے ڈیڑھ یا دو سال میں زیادہ واضح طور پر سامنے آئے گا۔JLOzr3AW

پرشانت کشور نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ جب عوام کسی معاملے پر عزم کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں تو حکومتوں کو بھی جھکنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق دہلی کے جنتر منتر پر جین زی کا احتجاج اس کی تازہ مثال ہے، جس نے یہ ثابت کردیا کہ نوجوان متحد ہوکر حکومت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنتر منتر کا احتجاج تحریک کا اختتام نہیں بلکہ آغاز تھا۔ ان کے مطابق اس تحریک کا ’’مین فیز‘‘ ابھی آنا باقی ہے اور مستقبل میں یہ کس معاملے پر اور کس شکل میں آگے بڑھے گی، اس کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ انہوں نے ماضی کی تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض عوامی تحریکوں کے سیاسی اثرات فوری طور پر نہیں بلکہ کئی برس بعد واضح ہوئے ہیں۔

پرشانت کشور نے موجودہ نوجوانوں کی تحریک کو سوشل میڈیا سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جین زی نے انسٹاگرام کو اپنے اظہار اور رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ بنا لیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق محض سوشل میڈیا کسی سیاسی تبدیلی کی وجہ نہیں بنتا، بلکہ اصل طاقت وہ مسائل اور پیغامات ہوتے ہیں جو عوام سے براہ راست جڑتے ہیں۔

دھرمیندر پردھان کے استعفے کو تحریک کا نتیجہ قرار دیا:
پرشانت کشور نے دہلی میں نیٹ سوالیہ پرچہ لیک اور امتحانات سے متعلق مسائل کے خلاف ہونے والے طلبہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک نے حکومت کو دباؤ محسوس کرنے پر مجبور کیا اور بالآخر مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ تاہم یہ پرشانت کشور کا سیاسی تجزیہ ہے؛ دیگر رپورٹس میں بھی احتجاج، حکومت کے ردعمل اور پردھان کے استعفے کے درمیان تعلق کو زیر بحث لایا گیا ہے، لیکن استعفے کی واحد وجہ کے طور پر احتجاج کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب خود دھرمیندر پردھان نے حال ہی میں جین زی کو نظرانداز نہ کیے جانے والی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اس کا مقابلہ کرنے کی نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے 15 سے 25 سال کی عمر کے تقریباً 20 کروڑ نوجوان اگر کسی معاملے پر عزم کرلیں تو وزیر تعلیم کی ذمہ داری ان کے عزم کے سامنے معمولی ہوجاتی ہے۔

احتجاج سے انتخابات تک جین زی کا اثر؟: 
جین زی تحریک کا سیاسی اثر حالیہ بانکی پور ضمنی انتخاب کے نتائج میں بھی زیر بحث آیا ہے۔ پرشانت کشور نے بی جے پی کے تین دہائیوں سے زیادہ پرانے مضبوط قلعے میں تقریباً 20 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے خود کہا کہ حالیہ جین زی احتجاج سے پیدا ہونے والے ماحول نے ممکنہ طور پر انتخابی نتیجے پر اثر ڈالا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بانکی پور میں نوجوان ووٹروں کی غیر معمولی بڑی تعداد میں شرکت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اور مجموعی ووٹنگ 35 فیصد سے بھی کم رہی۔

انگریزی اخبار Telegraph نے بھی بانکی پور کے نتیجے کو جین زی احتجاج کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہوئے لکھا کہ بی جے پی کی شہری بانکی پور میں شکست اس امکان کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ملک گیر نوجوانوں کے احتجاج نے پارٹی کے روایتی ووٹ بینک پر اثر ڈالا ہو۔

پرشانت کشور کے مطابق حکومت اگر یہ سمجھ رہی ہے کہ جین زی کا غصہ یا طلبہ تحریک وقت کے ساتھ خود بخود ختم ہوجائے گی تو یہ ایک بڑی غلط فہمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک، بے روزگاری اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات اس بے چینی کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔


Share: