نئی دہلی ، 26/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)جنتر منتر پر طلبہ اور نوجوانوں کے کامیاب احتجاج کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفے کا اپوزیشن نے خیر مقدم کیا ہے اوراسے طلبہ کی جیت قراردیا ہے۔اپوزیشن کے مطابق دھرمیندر پردھان کواور پہلے ہی استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا ۔
کانگریس جنرل سیکریٹری اور کیرا لہ کے وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طالب علموں کی جدوجہد کی جیت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس نے شروع سے طالب علموں کا مضبوطی سے ساتھ دیا اور تعلیمی نظام میں سدھار کی اس کی لڑائی آگے بھی جاری رہے گی۔پرینکا گاندھی کا وائناڈ میں صحافیوں کے سوال پر دیے گئے جواب کو پارٹی نے سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ کیا جس میں انہوں نے کہا’’ راہل گاندھی پچھلے دو تین سال سے مسلسل پرچہ لیک اور امتحانی سدھار کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے پر پوری کانگریس تنظیم، این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس کو طالب علموں کے حقوق نیز تعلیمی نظام میں اصلاح کیلئے ملک گیر تحریک کھڑی کرنے کی ترغیب دی۔میں وزیر تعلیم کے استعفے کی خبر سن کر جذباتی ہو گئی۔ کئی سال سے سوچتی تھی کہ ملک کے نوجوان ناانصافی کے خلاف کب متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے۔ آج ملک کے نوجوانوں نے اپنی طاقت دکھائی اور پیغام دیا ہے کہ ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ تعلیمی نظام میں نظریاتی مداخلت بڑھی ہے اور مخالفت کرنے والے طالب علموں کے ساتھ طاقت کا استعمال ہوا ہے لیکن اب نوجوانوں نے اپنی بات پورے ملک کے سامنے رکھ دی ہے۔‘‘
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طلبہ، ان کے اہل خانہ اور متحدہ اپوزیشن کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی نظام میں اصلاح کی لڑائی ابھی جاری رہے گی۔ کھرگے نے وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعدسوشل میڈیا ایکس پر لکھا ’’ہندوستان کے ’چھاتروں کی گونج ‘آخر کار مغرور اقتدار کی دہلیز تک پہنچ گئی ۔ یہ ہمارے کروڑوں نوجوانوں کی جیت ہے جنہوں نے تعلیمی نظام کو درست کرنے کیلئے ملک بھر میں آواز اٹھائی۔ یہ سچائی کی جیت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ضد کی ہار ہے۔‘‘ انہوں نےمزید کہا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ ان خاندانوں کی بھی جیت ہے، جنہوں نے حکومت کے مبینہ بدعنوان نظام کی وجہ سے اپنے بچوں کو کھویا۔کانگریس صدر نے کہا’’اب باری ہے مودی جی کی کہ وہ ملک کی نوجوان نسل سے معافی مانگیں اور جنہوں نے ان پر لاٹھی ڈنڈے نیز پیلٹ گن چلوائی ہے، ان پر سخت کارروائی کرنے کا حکم دیں ۔‘‘
آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے رکن اور سپریم کورٹ کے وکیل انتخاب عالم نے مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ طلباء، نوجوانوں اور ملک بھر میں جمہوری عوامی دباؤ کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس معاملے پر بڑے پیمانے پر عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بالآخر حکومت کو عوامی جذبات کے سامنے جھکنا پڑا۔انتخاب عالم نے کہا کہ اگر دھرمیندر پردھان اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بروقت استعفیٰ دے دیتے تو بہت سے ناخوشگوار حالات سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ بروقت استعفیٰ دینے سے جانی نقصان، زخمی اور انتظامیہ کو ایسے مشکل حالات کا سامنا کرنے سے بچایا جا سکتا تھا۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے ریاستی سیکریٹری رام نریش پانڈے نے سنیچر کوکہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہندوستان کے طلبہ اور نوجوانوں کیلئے ایک تاریخی جیت ہے۔پانڈے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوری جوابدہی کا ایک نادر لمحہ ہے جو کسی مغرور حکومت کی حسنِ نیت سے نہیں، بلکہ ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں کی مسلسل جدوجہد سے حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ تحریک نے بی جے پی کے غرور کو شکست دی ہے اور مودی-شاہ حکومت کو اپنی ناکامیوں کا جواب دینے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ طلبہ اور نوجوانوں نے اس سفاکیت کے سامنے غیر معمولی ہمت اور بے خوفی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ڈرے نہیں اور پختہ عزم کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف درج تمام ایف آئی آر فوری طور پر واپس لینے اور پرامن مظاہرین پر کی گئی کارروائی کے لیے حکومت سے بلا شرط معافی مانگنے کا مطالبہ دوہرایا۔