ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بڈدی ٹاؤن شپ کے لیے کسی کسان کی زمین زبردستی نہیں لی جائے گی: ڈی کے شیوکمار

بڈدی ٹاؤن شپ کے لیے کسی کسان کی زمین زبردستی نہیں لی جائے گی: ڈی کے شیوکمار

Thu, 16 Jul 2026 17:33:12    S O News

بنگلورو، 16 /جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیرِاعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے واضح اعلان کیا ہے کہ مجوزہ بڈدی ٹاؤن شپ منصوبے کے لیے کسی بھی کسان کی زمین زبردستی حاصل نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو کسان اپنی زمین حکومت کو دینا نہیں چاہتے، وہ بدستور اپنی زمین پر کاشتکاری جاری رکھ سکتے ہیں اور ان کی زمین کی قانونی حیثیت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

ودھان سودھا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے منصوبے کی مکمل سرکاری دستاویزات پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی بھی کسان کو اس کی مرضی کے خلاف زمین حوالے کرنے پر مجبور نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا، "جو کسان زمین نہیں دینا چاہتے، وہ اپنی زمین پر کھیتی جاری رکھیں۔ جو اپنی رضامندی سے زمین دینا چاہیں، انہیں قانون کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا، لیکن ایک گنٹھہ زمین بھی زبردستی حاصل نہیں کی جائے گی۔"

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ بڈدی ٹاؤن شپ منصوبے کے مختلف پہلوؤں، اس کے فوائد اور خدشات کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی کسانوں اور متعلقہ فریقوں کی آراء حاصل کرے گی اور اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی، جس کی بنیاد پر آئندہ فیصلہ ریاستی کابینہ کرے گی۔

منگل کے روز بڈدی میں مشترکہ سروے کے دوران پیش آئے کشیدہ حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس واقعہ سے انہیں شدید دکھ پہنچا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض سیاسی عناصر نے کسانوں کو گمراہ کیا، جس کے نتیجے میں سرکاری اہلکاروں پر حملے کیے گئے۔

ڈی کے شیوکمار نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ بڈدی ٹاؤن شپ ان کا ذاتی یا "خوابوں کا منصوبہ" ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو انہوں نے کبھی اسے اپنا خوابوں کا منصوبہ قرار دیا اور نہ ہی اس کی بنیاد رکھی، بلکہ وہ صرف سابق حکومتوں کے آغاز کردہ منصوبے کو قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں۔

اپنے آپ کو کسان کا بیٹا قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کسانوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور کبھی بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچے۔

وزیراعلیٰ نے مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بڈدی ٹاؤن شپ کا تصور انہی کے دورِ حکومت میں سامنے آیا تھا۔ انہوں نے سرکاری ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 23 ستمبر 2006 کو اُس وقت کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں بنگلورو کے اطراف پانچ مربوط ٹاؤن شپ قائم کرنے کی منظوری دی گئی تھی اور بعد ازاں عوامی و نجی شراکت داری کے تحت عالمی سطح پر ٹنڈر طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں مرندہلی اور اوڈیارہلی سمیت مزید دیہات کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا، جبکہ 20 نومبر 2006 کو جاری گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے اس علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا، جہاں بنگلورو ترقیاتی ادارے کی منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی تعمیرات پر پابندی عائد کی گئی۔

ڈی کے شیوکمار نے الزام لگایا کہ سابق حکومت نے دیہات میں مکانات سمیت مختلف جائیدادوں کے معاوضے کے تعین کے احکامات بھی جاری کیے تھے اور ایک نجی کمپنی کو چار سو کروڑ روپے بطور ضمانتی رقم وصول کرنے کے بعد منصوبے میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں بی ایس یدیورپا کی حکومت نے بھی 2010 میں اسی منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے عالمی ٹنڈر جاری کیے تھے۔

وزیراعلیٰ نے ایک مرتبہ پھر دوٹوک انداز میں کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں کے روزگار یا زمین پر کسی قسم کی زبردستی نہیں کرے گی۔ جو کسان اپنی زمین برقرار رکھنا چاہتے ہیں وہ بدستور کاشتکاری کریں گے، جبکہ صرف رضاکارانہ طور پر زمین دینے والے کسانوں کو ہی مقررہ قواعد کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر صنعت ایم بی پاٹل، رکن اسمبلی بالا کرشنا، وزیراعلیٰ کے سیاسی مشیر جی سی چندرشیکھر سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے۔


Share: