بنگلورو، 15/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)وزیرِ اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاست میں پیدا ہونے والی خشک سالی کی سنگین صورتِ حال کے پیشِ نظر فوری طور پر مرکزی جائزہ ٹیم بھیجنے اور ضروری امدادی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے اپنے خط میں کہا کہ ایل نینو کے اثرات کے باعث ریاست میں معمول سے تقریباً 30 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں زرعی سرگرمیاں، آبپاشی، پینے کے پانی کی فراہمی اور دیہی معیشت شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ٹیم کا دورہ صورتِ حال کا زمینی جائزہ لینے اور کسانوں میں اعتماد پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ کرناٹک ملک کی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں زراعت کا بڑا حصہ مانسون کی بارشوں پر منحصر ہے۔ ریاست کے تقریباً 77 فیصد علاقے خشک اور نیم خشک خطوں پر مشتمل ہیں، جبکہ لاکھوں ہیکٹر بارانی اراضی صرف موسمی بارش پر انحصار کرتی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کے مطابق 11 جولائی تک ریاست میں معمول کے 292 ملی میٹر کے مقابلے صرف 203 ملی میٹر بارش ہوئی، جو شدید کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ریاست کے 18 اضلاع اور 141 تعلقوں میں بارش کی شدید قلت ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے فصلوں کی بوائی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی کے پہلے ہفتے تک صرف 28.36 لاکھ ہیکٹر رقبے پر بوائی ہوسکی، جو ہدف کا محض 34 فیصد ہے۔ مسلسل بارش نہ ہونے کے باعث کسان نئی بوائی سے گریز کر رہے ہیں اور غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔
خط میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاست کے بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک کم ہوچکی ہے۔ 10 جولائی تک ریاست کے 14 بڑے آبی ذخائر میں مجموعی ذخیرہ صرف 303 ٹی ایم سی رہا، جو ان کی کل گنجائش کا تقریباً 34 فیصد ہے۔ اس کے نتیجے میں آبپاشی، پینے کے پانی اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ کرناٹک ملک میں دالوں، خصوصاً تور دال کی پیداوار کرنے والی اہم ریاستوں میں شامل ہے، اس لیے اگر خشک سالی برقرار رہی تو نہ صرف پیداوار متاثر ہوگی بلکہ قومی سطح پر دالوں کی دستیابی اور قیمتوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے زرعی ماہرین کی مشاورت سے فصلوں سے متعلق رہنما ہدایات جاری کر دی ہیں، اضلاع کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کیے گئے ہیں اور تمام متعلقہ محکموں کو خشک سالی سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی آبی ذخائر میں موجود پانی کو ترجیحی بنیاد پر صرف پینے کے پانی کے لیے محفوظ رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت فوری کارروائی کرتے ہوئے جائزہ ٹیم روانہ کرے گی تاکہ خشک سالی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو کم کرنے میں ریاست کو بروقت تعاون حاصل ہوسکے۔